|

 مصنوعی ذہانت سے اشاروں کی زبان کو آواز اور تحریر میں بدلنے والا نظام تیار، کراچی کی طالبات کا کارنامہ

کراچی: پاکستان میں خصوصی افراد کو درپیش مواصلاتی مسائل کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں علی گڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کی طالبات نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک جدید نظام تیار کیا ہے جو سماعت و گویائی سے محروم افراد اور عام شہریوں کے درمیان دوطرفہ رابطے کو ممکن بنا سکتا ہے۔

“سائن لینگویج ڈیٹیکشن سسٹم” (SLDS) نامی اس منصوبے کے ذریعے سماعت سے محروم افراد ہاتھوں کے اشاروں کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکیں گے جبکہ عام افراد بغیر اشاروں کی زبان سیکھے ان کے پیغامات کو آسانی سے سمجھ سکیں گے۔

اس جدید موبائل ایپلی کیشن میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس کی مدد سے اشاروں کی زبان کو فوری طور پر تحریر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، آواز کو متن میں بدلا جا سکتا ہے جبکہ تحریر کو دوبارہ آواز کی شکل میں منتقل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

منصوبے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا “ٹو وے کمیونیکیشن سسٹم” ہے، جس کے تحت سماعت و گویائی سے محروم افراد اور عام شہری اپنی سہولت کے مطابق ایک دوسرے سے باآسانی رابطہ کر سکتے ہیں۔

شعبہ سوفٹ ویئر کی سربراہ تسنیم آرزو کے مطابق پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد نظام خصوصی افراد کی روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا کر سکتا ہے، اس ٹیکنالوجی کو تعلیمی اداروں، اسپتالوں، بینکوں، سرکاری دفاتر اور دیگر عوامی مقامات پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دوطرفہ رابطہ نظام خصوصی افراد کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ اس کے ذریعے انہیں تعلیم، روزگار اور سماجی روابط کے مزید مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

یہ جدید منصوبہ شعبہ سوفٹ ویئر کی طالبات ثمرہ خالد (گروپ لیڈر) اور بی بی حفصہ نے اپنے سپروائزر سر حافظ عبدالمعز احمد کی نگرانی میں تیار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی اس نظام کی کامیابی پاکستان میں خصوصی افراد کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی نئی راہیں کھول سکتی ہے اور مستقبل میں ایسے مزید منصوبوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *