| |

ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں کی پلاننگ شروع کردی

واشنگٹن: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد خطے میں کشیدگی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی میڈیا اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق دونوں اتحادی ممالک ایران کے اہم توانائی ڈھانچے کے خلاف مشترکہ کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

میڈیارپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں بعض امریکی حکام نے بھی ممکنہ فوجی منصوبہ بندی کی تصدیق بھی کی ہے۔

اس حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو نئی کارروائیوں کے لیے تیاری کی ہدایات بھی دی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی پیش رفت کا کوئی مؤثر راستہ سامنے آتا ہے تو مجوزہ حملے مؤخر یا منسوخ بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے آئندہ چند دن صورتحال کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

اُدھر ایران نے ان اطلاعات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر اس کے اہم انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب پوری طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔

ایران کی خاتم الانبیا بریگیڈ کے سینئر کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی کا کہنا ہے کہ اب وہ دور گزر چکا جب کوئی ملک حملہ کرکے آسانی سے بچ نکلتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت، عزم اور مکمل حکمت عملی رکھتا ہے، جبکہ دشمن کی کسی بھی غلطی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ بیانات اور عسکری سرگرمیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو آنے والے دنوں میں خطے کی سکیورٹی اور عالمی توانائی منڈی دونوں پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *