ٹرمپ نے پیدائشی شہریت پر پابندی کے نئے صدارتی احکامات جاری کردیے
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں پیدا ہونے والے بعض بچوں کے لیے امریکی شہریت کے حصول کے قوانین کو محدود کرنے والے دو نئے صدارتی احکامات پر دستخط کر دیے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد ’برتھ ٹورزم‘ کے رجحان کو کنٹرول کرنا اور غیر ملکیوں کے لیے شہریت کی راہ کو مشکل بنانا ہے۔
امریکی آئین کی چودہویں ترمیم کے تحت اب تک امریکا میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام بچوں کو خودکار طور پر شہریت حاصل ہوتی ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ احکامات اس آئینی شق کی تشریح کو تبدیل کر کے مخصوص حالات میں پیدا ہونے والے بچوں کو اس حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں بھی پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے خلاف قانونی جنگ شروع ہوئی تھی۔
جون 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے اس سابقہ اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل نفاذ قرار دیا تھا، جس سے انتظامیہ کو بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تاہم نئے جاری کردہ صدارتی احکامات کا دائرہ کار گزشتہ کوششوں کے مقابلے میں کافی محدود رکھا گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس بار خاص طور پر ان افراد کو ہدف بنایا ہے جو صرف شہریت حاصل کرنے کی غرض سے مخصوص وقت پر امریکا کا سفر کرتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کو امریکی پاسپورٹ مل سکے۔
ماہرین قانون کے مطابق ان نئے صدارتی احکامات کو بھی عدالتوں میں سخت قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ چودہویں ترمیم میں تبدیلی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے، لہذا صرف صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس میں ردوبدل کرنا قانونی طور پر پیچیدہ اور متنازع عمل تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام نہ صرف امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے بلکہ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اسے امتیازی قرار دیا ہے۔