برطانوی فوجی تربیتی کالج میں جنسی زیادتی اور ہراسانی کے سنگین الزامات، آزاد تحقیقات کا مطالبہ
لندن: برطانیہ کے ایک فوجی تربیتی ادارے میں کم عمر خواتین اہلکاروں کے ساتھ جنسی زیادتی، ہراسانی اور بدسلوکی کے انکشافات نے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔ متاثرہ خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ دورانِ تربیت انہیں نہ صرف جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ادارے میں خواتین کے خلاف توہین آمیز رویے اور خوف کا ماحول بھی موجود تھا۔ ان الزامات کے بعد آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شمالی یارکشائر کے علاقے ہاروگیٹ میں قائم برطانوی فوج کے تربیتی کالج میں زیرِ تربیت رہنے والی 4 خواتین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اس وقت جنسی ہراسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی عمریں صرف 17 سال تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ انہیں کئی ساتھی فوجیوں نے کئی گھنٹوں تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد انہوں نے شدید ذہنی صدمے کے باعث فوج چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
ایک اور خاتون نے بتایا کہ ساتھی فوجیوں نے انہیں ایک کمرے میں بند کر کے زبردستی کی اور کئی گھنٹوں تک وہاں قید رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے ان کی زندگی پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔
متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ فوجی تربیتی ادارے میں خواتین کے خلاف نفرت، جنسی ہراسانی، توہین آمیز رویوں اور تشدد کا ماحول موجود تھا جبکہ بعض شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک متاثرہ خاتون کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو کالج میں مسلسل جنسی ہراسانی کا سامنا ر، ہاسٹل کے کمرے کا تالا خراب ہونے کی وجہ سے ان کی بیٹی رات کے وقت اپنے کمرے کے دروازے کے سامنے سو جاتی تھی تاکہ خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض تربیتی افسران خواتین کے بارے میں توہین آمیز اور تضحیک آمیز زبان استعمال کرتے تھے، بعض افسران خواتین کی ظاہری شکل و صورت کو نمبروں میں جانچتے اور ان کے بارے میں نامناسب تبصرے کرتے تھے، جس سے خواتین اہلکار خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق شمالی یارکشائر پولیس کو صرف ایک سال کے دوران اس فوجی تربیتی کالج سے متعلق 16 جنسی جرائم کی شکایات موصول ہوئیں، جن میں جنسی حملے، خفیہ نگرانی اور دیگر غیر اخلاقی حرکات کے الزامات شامل تھے۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2018 سے جون 2025 کے درمیان اس ادارے میں نامناسب جنسی رویوں سے متعلق 176 شکایات درج کی گئیں۔ ان میں 32 الزامات مستقل عملے کے سینئر ارکان کے خلاف جبکہ 144 شکایات زیرِ تربیت نوجوان فوجیوں کے خلاف تھیں۔
بی بی سی کے مطابق گزشتہ 5 برسوں کے دوران اس فوجی ادارے کے بعض بالغ تربیتی اہلکاروں کو جسمانی اور جنسی تشدد کے مقدمات میں فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں، جس سے ادارے میں نظم و ضبط اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اس معاملے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ایما لیویل نے فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے الزامات کسی دوسرے ادارے پر لگتے تو اسے فوری طور پر بند کر کے مکمل تحقیقات کی جاتیں، کم عمر فوجی اہلکاروں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب برطانوی فوج نے ان تمام الزامات کو انتہائی سنگین اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج میں مجرمانہ یا ناقابلِ قبول رویوں کی کوئی جگہ نہیں، متاثرہ افراد کی معاونت کے لیے اصلاحات متعارف کرائی جا چکی ہیں اور شکایات کے اندراج اور ان کی تحقیقات کے لیے آزاد نظام بھی موجود ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی فوج میں خواتین کے تحفظ سے متعلق خدشات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ ایک سرکاری جائزے میں بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ بڑی تعداد میں خواتین اہلکاروں کو دورانِ ملازمت جنسی نوعیت کے نامناسب رویوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے بعد ایک بار پھر برطانوی فوج میں خواتین کے تحفظ، احتساب اور تربیتی نظام پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔