یوکرین کا روس میں بڑے حملوں کا دعویٰ، جنگی جہاز اور ایرانی بحری کارگو کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان
کییف: یوکرین کے صدر ویلادیمر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی افواج نے روس کے اندر متعدد اہم فوجی اور صنعتی اہداف کو کامیاب کارروائیوں میں نشانہ بنایا، جن میں اسلحے کے پرزے تیار کرنے والی فیکٹری، آئل ریفائنری، لاجسٹک تنصیبات، ایندھن کے ذخائر، ایک جنگی جہاز اور ایران سے متعلق فوجی سازوسامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے بحری کارگو شامل ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ویلادیمر زیلنسکی نے کہا کہ روسی حملوں کے جواب میں یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، گزشتہ شب یوکرینی مسلح افواج نے روس کے مختلف علاقوں میں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا جو جنگی کارروائیوں کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یوکرینی فورسز نے ایک مرتبہ پھر روس کے علاقے کیروف میں واقع اس فیکٹری پر حملہ کیا جو ان ہتھیاروں کے لیے پرزے تیار کرتی ہے جنہیں روس یوکرین پر حملوں میں استعمال کرتا ہے،یہ صنعتی مرکز یوکرین کی سرحد سے تقریباً بارہ سو کلومیٹر دور واقع ہے، جس سے یوکرینی افواج کی طویل فاصلے تک کارروائی کی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یوکرینی فوج نے تیومین میں واقع آئل ریفائنری، یکاترنبرگ کی ایک لاجسٹک تنصیب اور روستوف آن ڈون میں ایندھن اور فوجی سازوسامان کے ذخائر کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے روس کی جنگی سپلائی لائن کو نقصان پہنچا۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ بحیرہ کیسپین میں بھی یوکرینی افواج نے اہم کارروائیاں انجام دیں، جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کے ذریعے ایک جنگی جہاز اور ایران سے متعلق فوجی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے یوکرین کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے،ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں جہاز پر دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک جبکہ ایک دوسرا زخمی ہوگیا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اس حملے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے گا،یوکرین ایسے حملوں کے ذریعے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا دائرہ مزید وسیع کرنا چاہتا ہے۔