روس کے معروف سیاحتی ساحل پر یوکرینی ڈرون حملہ، 7 افراد ہلاک، 40 زخمی
ماسکو: روس نے یوکرین پر بحیرۂ اسود کے ساحلی تفریحی علاقے گیلینڈژک کے قریب ڈرون حملہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں بچوں سمیت کم از کم 7 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب یوکرین نے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملہ ایک ایسے ساحلی مقام پر ہوا جہاں بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈرون کا اصل ہدف روس کا اہم بحری اڈہ نووروسیسک ہو سکتا تھا، جو گیلینڈژک سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، تاہم ڈرون اپنے متوقع ہدف تک پہنچنے کے بجائے ساحلی علاقے میں آ گرا، جس کے نتیجے میں شہری جانی نقصان کا شکار ہوئے۔
روسی علاقے کراسنوڈار کرائی کے گورنر وینیامین کوندراتیف نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں بتایا کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حکام نے بتایا کہ واقعے میں مجموعی طور پر 60 افراد زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ امدادی اداروں نے متاثرہ مقام کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے تحقیقاتی شعبے نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ حملہ گیلینڈژک کے قریب واقع ساحلی قصبے آرخیپو-اوسیپووکا میں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق ویڈیوز کے جغرافیائی محل وقوع، تازہ معلومات اور جدید تجزیاتی ذرائع کی مدد سے ان کی حقیقت کی تصدیق کی گئی۔
گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ڈرون ساحل کے انتہائی قریب پہنچنے کے بعد زور دار دھماکے سے پھٹ جاتا ہے۔ دھماکے کے فوراً بعد ساحل پر موجود افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل جاتا ہے اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے مختلف سمتوں میں بھاگتے دکھائی دیتے ہیں۔
اگرچہ روسی حکام نے اس حملے کی ذمہ داری یوکرین پر عائد کی ہے، تاہم کیف نے اب تک نہ تو اس الزام کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی ہے، جس کے باعث واقعے سے متعلق کئی سوالات ابھی باقی ہیں۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقوں پر مسلسل ڈرون اور میزائل حملے کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں روس کے اندر یوکرینی ڈرون کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن کا ہدف زیادہ تر فوجی تنصیبات، توانائی کے مراکز اور دفاعی ڈھانچے قرار دیے جاتے رہے ہیں۔
روسی حکام نے واقعے کے بعد متاثرہ ساحلی علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے، جبکہ حملے کی نوعیت، ہدف اور دیگر پہلوؤں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔