امریکی سینیٹ نے روس اور ایران پر نئی سخت اقتصادی پابندیوں کا بل منظور کر لیا
واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے روس اور ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور یوکرین جنگ کے تناظر میں ماسکو پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اہم قانون بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔ اس بل کی منظوری کے لیے 86 ارکان نے حمایت کی۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق لِنڈسے گراہم سینکشننگ ایکٹ 2026 نامی اس بل کا بنیادی مقصد روسی توانائی کی برآمدات کو محدود کرنا ہے۔ قانون سازی کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ان ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر سکیں جو روس سے تیل یا گیس خریدتے ہیں۔
یہ قانون اب منظوری کے آخری مرحلے کے لیے ایوان نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ قانون نافذ ہوتا ہے تو بھارت، چین، جاپان اور کئی یورپی ممالک اس کی زد میں آ سکتے ہیں کیونکہ یہ ممالک روسی توانائی کے بڑے خریدار ہیں۔
امریکی صدر کے پاس اب یہ صوابدیدی اختیار ہوگا کہ وہ ضرورت پڑنے پر ان ممالک کے خلاف سخت تجارتی اقدامات اٹھا سکیں، تاہم 100 فیصد ٹیرف کا نفاذ فوری نہیں ہوگا بلکہ اس کا انحصار صدر کے فیصلے اور بدلتی ہوئی عالمی سیاسی و سفارتی صورتحال پر ہوگا۔
اس بل کے ذریعے امریکہ کا مقصد عالمی منڈی میں روس کی آمدنی کے ذرائع کو بند کرنا اور اسے یوکرین میں جاری جارحیت سے روکنا ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچنے کا امکان ہے کیونکہ بڑی معیشتوں کے لیے روسی وسائل کا متبادل تلاش کرنا فوری طور پر ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف روس بلکہ ان ممالک کے لیے بھی ایک سخت پیغام ہے جو روس کے ساتھ توانائی کے تجارتی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاشی گھیراؤ ہی روس کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں ایوان نمائندگان کے فیصلے پر مرکوز ہیں کہ وہاں اس بل کو کس طرح دیکھا جاتا ہے۔