ویسٹ انڈیز ورلڈکپ 2027 میں براہ راست جگہ بنانے میں ناکام
ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم 2027 کے عالمی کپ کے لیے براہ راست کوالیفائی کرنے میں ناکام ہوگئی، جس کے بعد 2 مرتبہ کی سابق عالمی چیمپئن ٹیم کو مسلسل دوسری مرتبہ عالمی کپ کے کوالیفائر مرحلے سے گزرنا ہوگا۔
کرکٹ سے متعلق معتبر ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ورلڈکپ 2027 کے لیے براہ راست رسائی حاصل کرنے والی ٹیموں کی فہرست مکمل ہوگئی ہے، جس میں میزبان جنوبی افریقا اور زمبابوے کے علاوہ درجہ بندی میں سرفہرست 8 ٹیمیں شامل ہیں۔ افغانستان نے بیلفاسٹ میں آئرلینڈ کو شکست دے کر عالمی کپ میں اپنی براہ راست جگہ بھی یقینی بنالی۔
براہ راست عالمی کپ میں پہنچنے والی ٹیموں میں آسٹریلیا، بھارت، نیوزی لینڈ، پاکستان، سری لنکا، انگلینڈ، بنگلا دیش، جنوبی افریقا اور زمبابوے شامل ہیں۔
دوسری جانب درجہ بندی میں 10 ویں نمبر پر موجود ویسٹ انڈیز براہ راست کوالیفکیشن کی دوڑ سے باہر ہوگئی ہے۔ ٹیم کو مقررہ آخری تاریخ 30 ستمبر تک بھارت کے خلاف 2 ایک روزہ میچز بھی کھیلنے ہیں، تاہم دونوں مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں بھی ویسٹ انڈیز براہ راست عالمی کپ میں جگہ بنانے کی پوزیشن حاصل نہیں کرسکے گی۔
ویسٹ انڈیز کے لیے یہ صورتحال گزشتہ عالمی کپ کی ناکامی کے بعد ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ ٹیم 2023 کے عالمی کپ کے لیے بھی پہلی مرتبہ براہ راست کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی تھی، جبکہ اب 2027 کے عالمی کپ سے قبل اسے ایک مرتبہ پھر کوالیفائر مرحلے کا امتحان دینا ہوگا۔
آئندہ سال فروری میں ہونے والے کوالیفائر مقابلوں کے ذریعے عالمی کپ کے اگلے مرحلے کی ٹیم کا فیصلہ ہوگا۔ کوالیفائر کی فاتح ٹیم عالمی کپ کے دوسرے مرحلے میں براہ راست رسائی حاصل کرے گی۔
کوالیفائر مرحلے میں دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیموں کو مزید ایک موقع ملے گا، جو سپر سیریز میں حصہ لیں گی۔ اس مرحلے کی سرفہرست ٹیم بھی عالمی کپ کے دوسرے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔
ویسٹ انڈیز کرکٹ کی تاریخ میں عالمی کپ کی 2 مرتبہ فاتح رہ چکی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں ٹیم کی کارکردگی میں آنے والی مسلسل گراوٹ کے باعث اسے اب عالمی کرکٹ کے بڑے مقابلوں تک رسائی کے لیے بھی اضافی مرحلے سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
2027 کے عالمی کپ کے لیے براہ راست کوالیفائی نہ کرنا ویسٹ انڈیز کے لیے اس اعتبار سے بھی تشویش کا باعث ہے کہ مسلسل دوسری مرتبہ عالمی کپ میں شرکت سے قبل اسے کوالیفائر کا مرحلہ عبور کرنا ہوگا، جہاں ایک معمولی ناکامی بھی ٹیم کے عالمی کپ کے سفر کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔