| |

سینیٹر فیصل سلیم رحمان کے خاندانی تمباکو کاروبار پر ٹیکس چوری کے الزامات، تحقیقات کا دائرہ وسیع

اسلام آباد: غیر قانونی سگریٹ کی ایک بڑی کھیپ پکڑے جانے کے بعد تحقیقات نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس کیس کے ممکنہ روابط بااثر سیاسی خاندانوں اور ان سے وابستہ تمباکو کمپنیوں تک پہنچ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کی خفیہ اطلاع پر موٹروے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 11 ٹرکوں سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ غیر قانونی سگریٹ برآمد کیے، جن کی مالیت تقریباً 2 ارب 20 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔

ابتدائی طور پر صرف چار ٹرکوں کی اطلاع موصول ہوئی تھی، تاہم نگرانی کا دائرہ بڑھانے کے بعد مزید گاڑیوں کو بھی روک کر تلاشی لی گئی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 11 ٹرک قبضے میں لے لیے گئے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق یہ سگریٹ صوابی سے لاہور، ملتان، سرگودھا اور پنجاب کے دیگر شہروں میں منتقل کیے جا رہے تھے، جبکہ ترسیل کے لیے نجی ٹرانسپورٹ استعمال ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

برآمد ہونے والے برانڈز میں Cafe، Chase، More One، Smoke Star، Black Eagle اور Dubai Lights شامل ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان برانڈز کے روابط ایشیا ٹوبیکو کمپنی، جے سنز ٹوبیکو کمپنی، سموک اسٹار ٹوبیکو کمپنی اور یونیورسل ٹوبیکو کمپنی سے ہیں، جبکہ Cafe اور More One یونیورسل ٹوبیکو کمپنی کے رجسٹرڈ ٹریڈ مارکس ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں بعض برانڈز کے ممکنہ روابط مردان کے ایک بااثر سیاسی خاندان سے بھی سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یونیورسل ٹوبیکو کمپنی سابق رکن قومی اسمبلی حاجی نسیم رحمان کی ملکیت ہے، جو سینیٹر فیصل سلیم رحمان کے چچا اور سسر ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سینیٹر فیصل سلیم رحمان کے قریبی خاندان سے منسلک یونیورسل ٹوبیکو کمپنی، مارخور ٹوبیکو کمپنی اور ملت ٹوبیکو کمپنی کے خلاف ماضی میں بھی مبینہ ٹیکس چوری کے معاملات پر کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یونیورسل ٹوبیکو گروپ کی آزاد جموں و کشمیر میں قائم بعض غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں میں سرمایہ کاری موجود ہے۔ اسی سلسلے میں مظفرآباد کی وے وارڈ ٹوبیکو فیکٹری اور اس کے مالک بابر تاج کے کاروباری روابط کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے، جنہیں ماضی میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی مبینہ فنڈنگ کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ماضی میں بھی ان کمپنیوں کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ ٹیکس چوری کے مقدمات میں کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ مزید یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان تحقیقات میں شامل بعض ٹیکس افسران کو بعد ازاں مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو فہیم رشید نے بھی ماضی میں سینیٹر فیصل سلیم رحمان اور سینیٹر دلاور خان سے منسلک تمباکو کمپنیوں کے خلاف کارروائیاں کی تھیں، جن کے نتیجے میں مبینہ ٹیکس چوری کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر غیر قانونی سگریٹ، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف ملک بھر میں بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ متعلقہ ادارے ضبط شدہ سگریٹوں کے ٹیکس ریکارڈ، ملکیتی تفصیلات اور ترسیلی نیٹ ورک کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔

نوٹ: اس خبر میں شامل سینیٹر فیصل سلیم رحمان، ان کے اہل خانہ اور متعلقہ کمپنیوں سے متعلق تمام الزامات ذرائع سے منسوب ہیں۔ ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق یا عدالت سے توثیق نہیں ہوئی، جبکہ متعلقہ فریق کا مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کسی قانونی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *