|

مکمل سورج گرہن سائنس دانوں کے لیے سورج کے پوشیدہ راز جاننے کا نادر موقع

میڈرڈ: مکمل سورج گرہن آئندہ ہفتے اسپین میں نظر آئے گا، جسے دنیا بھر کے سائنس دان سورج کے مقناطیسی میدان، بیرونی فضا اور شمسی سرگرمیوں کو قریب سے سمجھنے کے ایک نادر موقع کے طور پر استعمال کریں گے۔

ماہرین کے مطابق 12 اگست کو جب چاند مکمل طور پر سورج کو ڈھانپ لے گا تو تقریباً ایک منٹ اور 40 سیکنڈ تک سورج کی عام روشنی غائب ہو جائے گی۔ اس مختصر وقت میں مختلف تحقیقی ٹیمیں جدید آلات کے ذریعے سورج کی بیرونی تہہ کورونا (Corona)، اس کے مقناطیسی میدان اور شمسی ہواؤں کا مشاہدہ کریں گی۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ مکمل سورج گرہن کے دوران سورج کی وہ بیرونی تہیں بھی واضح دکھائی دیتی ہیں جنہیں عام حالات میں سورج کی تیز روشنی کے باعث دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے گرہن سائنسی تحقیق کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

فرانس کے اٹامک انرجی کمیشن (CEA) کے ماہر فلکیات ایلن ساچا برون کے مطابق سورج کی سرگرمیوں کو سمجھنے سے نہ صرف اس کے ارتقائی سفر پر روشنی پڑتی ہے بلکہ شمسی طوفانوں کی پیش گوئی بھی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ سورج سے خارج ہونے والے طاقتور ذرات بعض اوقات زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکرا کر سیٹلائٹس، خلانوردوں اور مواصلاتی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یورپی خلائی ایجنسی (ESA) بھی اس موقع پر سورج سے خارج ہونے والی شمسی ہواؤں اور ان کی ساخت کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس مشاہدے سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ شمسی طوفان کس طرح بنتے اور زمین تک پہنچتے ہیں، جس سے مستقبل میں ان کی پیش گوئی مزید مؤثر ہو سکے گی۔

ماہرین کے مطابق سورج تقریباً ہر 11 سال بعد اپنی سرگرمیوں کے عروج پر پہنچتا ہے اور 2024 میں اس نے اپنے 25ویں شمسی چکر کی بلند ترین سطح حاصل کی تھی۔ اسی لیے موجودہ دور میں سورج کی سرگرمیوں کا مطالعہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مکمل سورج گرہن صرف فلکیاتی منظر ہی نہیں بلکہ کائنات کے اہم راز جاننے اور خلائی تحقیق کو آگے بڑھانے کا ایک قیمتی موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *