کیا کھویا، کیا پایا: ایک طرف مواقع، دوسری طرف غیر یقینی مستقبل
کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار اس کے نوجوانوں پر ہوتا ہے۔ معیاری تعلیم، باعزت روزگار، جدت طرازی کے مواقع اور قومی زندگی میں مؤثر شرکت نہ صرف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ کسی خطے کا تعلیمی، سماجی اور معاشی نظام کس حد تک مضبوط، مستحکم اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
تقسیمِ کشمیر کے بعد دونوں اطراف کے نوجوان مختلف انتظامی اور حکومتی نظاموں کے تحت پروان چڑھے، جس کے نتیجے میں ان کے تعلیمی، معاشی اور پیشہ ورانہ سفر میں نمایاں فرق پیدا ہوا۔
آزاد جموں و کشمیر (AJK) میں گزشتہ برسوں کے دوران نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے طب، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون، کاروبار، تعلیم، سول سروسز اور کاروباری میدان سمیت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے متعدد نوجوان نہ صرف پاکستان کے سرکاری و نجی اداروں میں اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی اپنی پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جس سے خطے کی علمی اور فنی صلاحیتوں کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس، بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے نوجوان طویل سیاسی کشیدگی، سکیورٹی صورتحال، وقفے وقفے سے مواصلاتی پابندیوں اور معاشی غیر یقینی جیسے مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں، جن کے اثرات تعلیم، سرمایہ کاری، سیاحت اور روزگار کے مواقع پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔
تعلیم: ترقی کی بنیاد
تعلیم ہمیشہ سے سماجی اور معاشی ترقی کا بنیادی ستون رہی ہے، اور آزاد جموں و کشمیر میں بھی یہی شعبہ نوجوانوں کی کامیابی کا سب سے مضبوط ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ یہاں کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں نے ایسے باصلاحیت طلبہ تیار کیے ہیں جنہوں نے پاکستان کی ممتاز جامعات میں داخلے حاصل کیے اور مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں سمیٹیں۔
مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، راولاکوٹ، باغ، بھمبر اور وادیٔ نیلم سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہر سال ہزاروں طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک کی معروف جامعات کا رخ کرتے ہیں۔
یہ طلبہ درج ذیل شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں:
طب (میڈیسن)
سول انجینئرنگ
الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئرنگ
کمپیوٹر سائنس
مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس)
ڈیٹا سائنس
سائبر سکیورٹی
بزنس ایڈمنسٹریشن
قانون
تعلیم
ان میں سے بہت سے طلبہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر وظائف حاصل کرنے، اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے اور ممتاز اداروں میں ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جس سے آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی علمی استعداد مزید اجاگر ہوئی ہے۔
پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد
آزاد جموں و کشمیر میں سماجی اور معاشی ترقی کی ایک نمایاں علامت مختلف شعبوں میں پیشہ ور افراد کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔
پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے آزاد کشمیر کے ڈاکٹر ملک بھر کے سرکاری و نجی اسپتالوں کے علاوہ بیرونِ ملک بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اسی طرح انجینئرز بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ٹیلی کمیونی کیشن، پن بجلی کے منصوبوں، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور دیگر تکنیکی شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب نوجوان کاروباری افراد سافٹ ویئر ہاؤسز، ای کامرس پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسیوں اور دیگر جدید کاروباری منصوبوں کے ذریعے نئی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ نوجوان فری لانسنگ اور ریموٹ ورک کے ذریعے دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں، جو خطے میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی واضح علامت ہے۔
اسی طرح متعدد نوجوان وفاقی پبلک سروس کمیشن (FPSC) اور مختلف صوبائی پبلک سروس کمیشنز کے مسابقتی امتحانات کامیابی سے پاس کرکے پاکستان کی سول سروسز میں شامل ہوئے ہیں، جبکہ بہت سے نوجوان افواجِ پاکستان، عدلیہ، بینکاری، جامعات، تدریسی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اس کے مقابلے میں بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، کاروبار اور پیشہ ورانہ ترقی کے میدان میں نسبتاً محدود مواقع میسر ہیں۔
معاشی غیر یقینی، نجی سرمایہ کاری میں کمی، محدود صنعتی ترقی اور وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی سیاسی و سکیورٹی صورتحال نے وہاں ایک مضبوط اور متحرک روزگار کی منڈی کی تشکیل کو متاثر کیا ہے۔
اگرچہ بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے بہت سے باصلاحیت نوجوان طب، انجینئرنگ، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، تاہم بڑی تعداد میں نوجوان اب بھی بے روزگاری، جزوقتی روزگار اور مستقل پیشہ ورانہ مواقع تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسی وجہ سے بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں نوجوانوں کی پیشہ ورانہ اور معاشی ترقی کے امکانات آزاد جموں و کشمیر کے مقابلے میں نسبتاً محدود دکھائی دیتے ہیں۔
تعلیمی کوٹہ: اعلیٰ تعلیم تک رسائی کا ایک مؤثر ذریعہ
آزاد جموں و کشمیر کے طلبہ کو پاکستان کی متعدد ممتاز جامعات میں مخصوص نشستوں اور کوٹہ سسٹم کے تحت داخلے کی سہولت حاصل ہے۔ ان میں Quaid-i-Azam University اور National University of Sciences and Technology (NUST) سمیت دیگر اعلیٰ تعلیمی ادارے شامل ہیں۔
یہ سہولت آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع بھی مہیا کرتی ہے۔ اس کے برعکس بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے طلبہ کو پاکستان کی جامعات میں اس نوعیت کے مخصوص کوٹہ سسٹم سے عمومی طور پر فائدہ حاصل نہیں، جس کے باعث ان کے لیے ایسے اداروں میں داخلے کے مواقع محدود رہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھول دیں
انٹرنیٹ، آن لائن تعلیم اور فری لانسنگ پلیٹ فارمز کے فروغ نے آزاد جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے عالمی ڈیجیٹل معیشت کے دروازے کھول دیے ہیں۔
آج خطے کے طلبہ اور نوجوان مختلف آن لائن کورسز اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن پروگرامز کے ذریعے پروگرامنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر جدید مہارتیں حاصل کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں نوجوان فری لانسرز سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ویب ڈیزائن، مواد نویسی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ اور دیگر آن لائن خدمات کے ذریعے دنیا بھر کے اداروں اور کمپنیوں کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں، جس سے انہیں روایتی ملازمتوں کے علاوہ آمدنی کے نئے ذرائع بھی میسر آئے ہیں۔
ڈیجیٹل کاروبار کے فروغ نے جغرافیائی رکاوٹوں کو بھی بڑی حد تک کم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دور دراز اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان بھی بین الاقوامی منڈی میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں مختلف ادوار کے دوران انٹرنیٹ اور مواصلاتی پابندیوں نے طلبہ اور نوجوانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنا مشکل بنا دیا۔ آن لائن تعلیم، فری لانسنگ، ڈیجیٹل کاروبار اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی متعدد مواقع پر متاثر رہی، جس سے نوجوانوں کی پیشہ ورانہ ترقی کی رفتار بھی سست ہوئی۔
بیرونِ ملک مقیم کشمیری برادری کا کردار
آزاد جموں و کشمیر کی ترقی میں بیرونِ ملک مقیم کشمیری برادری نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
برطانیہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں مقیم کشمیری خاندان طویل عرصے سے اپنے آبائی علاقوں میں تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور مقامی کاروبار میں سرمایہ کاری کرتے آ رہے ہیں۔
ان کی مالی معاونت اور سرمایہ کاری نے متعدد خاندانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے، جبکہ بے شمار نوجوانوں کو بہتر تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع حاصل کرنے میں مدد ملی۔
اس کے علاوہ بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں نے اپنے بین الاقوامی تجربات، پیشہ ورانہ روابط اور کاروباری مہارتوں کے ذریعے بھی خطے کے نوجوانوں کی رہنمائی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ اس عالمی تعلق نے نئی نسل میں بلند تعلیمی اہداف، جدید مہارتیں حاصل کرنے کے رجحان اور بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کی خواہش کو مزید تقویت دی ہے۔
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے نوجوان بھی بے پناہ صلاحیتوں اور بلند تعلیمی امنگوں کے حامل ہیں، تاہم مختلف تحقیقی اداروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے متعدد عوامل نے ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کو متاثر کیا ہے۔
طویل عرصے سے جاری سیاسی کشیدگی، سکیورٹی آپریشنز، تعلیمی اداروں کی بندش، مواصلاتی پابندیاں اور وقتاً فوقتاً انٹرنیٹ کی معطلی نے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں اور کاروباری ماحول پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔
سیاحت، جو خطے میں روزگار کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے، اور نجی سرمایہ کاری بھی عدم استحکام کے مختلف ادوار میں متاثر رہی، جس کے باعث روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی رفتار سست ہوئی۔
متعدد طلبہ کو تعلیمی سلسلہ برقرار رکھنے، کلاسوں میں باقاعدہ حاضری، مسابقتی امتحانات کی تیاری اور آن لائن تعلیم تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح ایسے کاروباری افراد اور نوجوان، جن کا انحصار انٹرنیٹ پر تھا، مواصلاتی پابندیوں کے دوران اپنے کاروباری امور کو معمول کے مطابق جاری رکھنے میں دشواری محسوس کرتے رہے۔
ان تمام عوامل نے بہت سے نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کی، جس کے اثرات ان کی پیشہ ورانہ ترقی پر بھی مرتب ہوئے۔
مختلف حالات، مختلف نتائج (کیا کھویا، کیا پایا)
کشمیر کے دونوں حصوں کا تقابلی جائزہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ حکمرانی، ادارہ جاتی استحکام، معیاری تعلیم تک رسائی اور معاشی مواقع نوجوانوں کے مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اگرچہ آزاد جموں و کشمیر کو بھی محدود صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، بے روزگاری اور سرمایہ کاری جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم مجموعی طور پر یہاں نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے، قومی سطح کے مسابقتی امتحانات میں حصہ لینے، کاروبار شروع کرنے اور پاکستان سمیت بین الاقوامی سطح پر پیشہ ورانہ مواقع تلاش کرنے کے لیے نسبتاً سازگار ماحول میسر ہے۔
اس کے برعکس بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں وقفے وقفے سے پیدا ہونے والی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال نے بہت سے نوجوانوں کے لیے تعلیم، کاروبار اور روزگار کے شعبوں میں اضافی رکاوٹیں پیدا کی ہیں، جس سے ان کے پیشہ ورانہ سفر پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
اختتامیہ
کشمیر کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ معیاری تعلیم کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، اختراع کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا خطے کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
ایسا ماحول جہاں تعلیمی ادارے بلا تعطل اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں، کاروبار فروغ پا سکے، نوجوان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور ان کی کامیابی کا معیار صرف ان کی محنت، قابلیت اور صلاحیت ہو، ہر نوجوان کا بنیادی حق ہے۔
اگرچہ کشمیر کے دونوں حصوں کے حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن نوجوانوں کے خواب، امنگیں اور بہتر مستقبل کی خواہش مشترک ہیں۔ تعلیم، عزتِ نفس، معاشی خودمختاری اور ترقی کے مساوی مواقع ہی وہ بنیاد ہیں جن پر ایک روشن، مستحکم اور خوشحال مستقبل استوار کیا جا سکتا ہے۔