ہری پور اور ایبٹ آباد کو اسلام آباد میں شامل کرنے کی مخالفت

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے ہری پور اور ایبٹ آباد سمیت صوبے کے کسی بھی ضلع کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شامل کرنے کی کسی بھی تجویز، منصوبے یا اقدام کو متفقہ طور پر مسترد کردیا۔ ایوان نے صوبے کی جغرافیائی وحدت، آئینی حیثیت اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے ایسی تمام تجاویز فوری طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ایوان نے قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔چیف وہپ اکبر ایوب کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ہری پور اور ایبٹ آباد سمیت خیبرپختونخوا کا ہر ضلع صوبے کا اٹوٹ حصہ ہے اور اسے کسی بھی صورت صوبے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔صوبائی حدود میں انتظامی، سیاسی یا معاشی بنیادوں پر کسی بھی قسم کی تبدیلی صوبے کے عوام کے حقوق، صوبائی خودمختاری اور آئینی اصولوں کے منافی ہوگی۔قرارداد میں واضح کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے آبی وسائل، پن بجلی کے منصوبے، معدنیات، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل صوبے اور اس کے عوام کا آئینی حق ہیں، ان وسائل پر براہ راست یا بالواسطہ اختیار حاصل کرنے کی کوئی بھی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی۔پاکستان کی مضبوطی وفاقی ڈھانچے، آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور تمام وفاقی اکائیوں کے مساوی احترام میں مضمر ہے، کسی بھی صوبے کی جغرافیائی حدود میں سیاسی مقاصد یا ذاتی خواہشات کے تحت یکطرفہ تبدیلی قومی یکجہتی، بین الصوبائی اعتماد اور وفاقی نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہری پور، ایبٹ آباد یا خیبرپختونخوا کے کسی بھی دوسرے ضلع کو اسلام آباد میں شامل کرنے سے متعلق تمام تجاویز فوری طور پر ترک کی جائیں اور صوبے کی آئینی و جغرافیائی حیثیت کا مکمل احترام کیا جائے۔ صوبے کے عوام، منتخب ایوان اور صوبائی حکومت اپنی جغرافیائی سالمیت، آئینی حقوق، صوبائی خودمختاری اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور پْرامن ذریعہ اختیار کریں گے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *