کراچی کو بہتر طرز حکمرانی کی ضرورت!
کراچی کوہرچند برس بعد الگ صوبہ بنانے کی بحث زور پکڑ لیتی ہے۔ اس مطالبے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ شہر کی آئینی اور انتظامی حیثیت تبدیل کر دینے سے اس کے دیرینہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ تاہم تاریخ اور زمینی حقائق اس تصور کی تائید نہیں کرتے۔ کراچی کے مسائل کبھی بھی جغرافیائی حدود یا انتظامی تقسیم کا نتیجہ نہیں رہے، بلکہ ان کی بنیادی وجوہات کمزور طرزِ حکمرانی، سیاسی کشمکش، ادارہ جاتی کمزوری اور طویل المدتی قومی وژن کا فقدان ہیں۔
کراچی پاکستان کا معاشی مرکز، سب سے بڑا شہری اجتماع اور ملک کے ہر خطے، زبان اور ثقافت کی نمائندگی کرنے والا شہر ہے۔ یہی تنوع اس کی اصل طاقت اور قومی شناخت کا مظہر ہے۔ اس شہر نے دہائیوں سے لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار، تعلیم اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ اس اعتبار سے کراچی صرف سندھ کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا شہر ہے۔
بدقسمتی سے کراچی کے بنیادی مسائل کے حل پر سنجیدہ اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے بجائے سیاسی بحث اکثر انتظامی حدود کی تبدیلی تک محدود ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نقشہ بدلنے سے نہ ادارے مضبوط ہوتے ہیں، نہ ہی پانی، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم، صفائی اور روزگار جیسے بنیادی مسائل خودبخود حل ہوتے ہیں۔ ان مسائل کا حل مؤثر، شفاف اور جوابدہ حکمرانی میں مضمر ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کراچی پر کون حکومت کرے، بلکہ یہ ہے کہ حکمرانی کیسے کی جائے۔
کراچی کو ایک مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام، پیشہ ورانہ شہری منصوبہ بندی، شفاف ادارے، قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ، پائیدار آبی وسائل، معیاری تعلیم، مؤثر صحت کی سہولیات، جدید انفرااسٹرکچر اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع درکار ہیں۔ یہ اہداف صرف سیاسی عزم، ادارہ جاتی اصلاحات اور وفاق، صوبے اور مقامی حکومتوں کے درمیان مؤثر تعاون سے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی مقابلہ ایک فطری عمل ہے، لیکن عوامی مفاد کے معاملات میں تعاون بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ کراچی جیسے قومی اہمیت کے حامل شہر کے لیے ایسی دو جماعتی یا کثیر الجماعتی پالیسی درکار ہے جو انتخابی ادوار سے بالاتر ہو، حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہو، اور شہر کی ترقی کا تسلسل برقرار رکھے۔
وقت آ گیا ہے کہ اس بحث کو نئی سرحدوں کے بجائے بہتر حکمرانی، مضبوط اداروں اور مؤثر عوامی خدمات کی جانب منتقل کیا جائے۔ ہماری نوجوان نسل کو سیاسی تقسیم نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق، اختراع، کاروباری مواقع اور قومی یکجہتی کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے۔
کراچی تمام پاکستانیوں کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ اس کا مستقبل نئی انتظامی سرحدوں سے نہیں بلکہ دیانت دار قیادت، مضبوط اداروں، قومی اتفاقِ رائے اور مؤثر طرزِ حکمرانی سے محفوظ اور روشن بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم واقعی کراچی کو اس کے شایانِ شان مقام دلانا چاہتے ہیں تو توجہ سرحدوں کی تبدیلی پر نہیں، بلکہ حکمرانی کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز کرنا ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔