بارہ اگست کو مکمل سورج گرہن کا شاندار نظارہ، چند ممالک کے لوگ ہی دیکھ سکیں گے

واشنگٹن: دنیا بھر میں فلکیاتی شائقین ایک نایاب آسمانی منظر دیکھنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ بارہ اگست کو مکمل سورج گرہن ہونے جا رہا ہے، یہ سورج گرہن اس لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ بعض علاقوں میں لوگ اسے سورج غروب ہونے کے وقت بھی دیکھ سکیں گے، جو ایک انتہائی نایاب فلکیاتی منظر تصور کیا جاتا ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ صرف دنیا کے چند مخصوص علاقوں سے ممکن ہوگا۔ گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین کے شمالی حصوں اور پرتگال کے ایک چھوٹے سے علاقے میں رہنے والے افراد ہی اس مکمل سورج گرہن کا براہِ راست نظارہ کر سکیں گے۔

رپورٹس کے مطابق اسپین میں یہ منظر خاص طور پر منفرد ہوگا کیونکہ وہاں مکمل سورج گرہن سورج غروب ہونے کے وقت دکھائی دے گا۔ غروبِ آفتاب کے وقت مکمل سورج گرہن کا نظارہ کئی برسوں بعد ہی ممکن ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس بار کا گرہن دنیا بھر کے فلکیاتی ماہرین اور شوقین افراد کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یورپ اور افریقا کے کئی دیگر ممالک میں مکمل نہیں بلکہ جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔ یورپ کے بیشتر ممالک جبکہ شمالی افریقا کے مختلف علاقوں میں لوگ سورج کے ایک حصے کو چاند کے پیچھے چھپتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔

روس بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں جزوی سورج گرہن کا منظر مختلف انداز میں دیکھا جا سکے گا۔ روس کے غیر آباد علاقے ٹائمائر جزیرہ نما میں جزوی سورج گرہن کا آغاز سورج طلوع ہونے کے وقت ہوگا جبکہ ملک کے دوسرے سرے پر بعض علاقوں میں یہ منظر سورج غروب ہونے کے وقت اختتام پذیر ہوگا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے اور سورج کی روشنی کا کچھ یا مکمل حصہ زمین تک پہنچنے سے رک جاتا ہے۔ مکمل سورج گرہن کے دوران چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے اور سورج کے گرد موجود روشن ہالہ، جسے کورونا کہا جاتا ہے، واضح دکھائی دیتا ہے۔

پاکستانی وقت کے مطابق بارہ اگست کو جزوی سورج گرہن کا آغاز رات دس بج کر چونتیس منٹ پر ہوگا جبکہ مکمل سورج گرہن رات بارہ بج کر بارہ منٹ پر شروع ہوگا۔ اس فلکیاتی مظہر کا اختتام رات دو بج کر اٹھاون منٹ پر ہوگا۔

ماہرین فلکیات نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کا مشاہدہ کرتے وقت خصوصی حفاظتی چشموں کا استعمال ضروری ہے کیونکہ براہِ راست سورج کو دیکھنے سے آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *