|

اے آئی فراڈ میں اضافہ، امریکیوں کو ایک سال میں اربوں ڈالر کا نقصان

واشنگٹن: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ سائبر جرائم کی نوعیت بھی مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔

 امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیے جانے والے فراڈ، جعلی شناخت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث امریکی شہریوں کو بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایف بی آئی کے مطابق صرف سرمایہ کاری سے متعلق اے آئی فراڈ کے واقعات میں تقریباً 1 کھرب 75 ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے، مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز نے جرائم پیشہ عناصر کو ایسے مواقع فراہم کر دیے ہیں جن کے ذریعے وہ زیادہ حقیقت سے قریب جعلی پیغامات، ویڈیوز، آوازیں اور دستاویزات تیار کر سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی شخص کے چہرے، آواز اور ویڈیو کی نقل تیار کرنا پہلے کی نسبت کہیں آسان ہو گیا ہے، صرف چند سیکنڈز کی آڈیو ریکارڈنگ کی مدد سے کسی فرد کی آواز کی کافی حد تک نقل تیار کی جا سکتی ہے، جسے استعمال کرتے ہوئے فراڈ کرنے والے افراد متاثرین کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایف بی آئی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی فراڈ میں نہ صرف عام شہری بلکہ کاروباری ادارے اور مالیاتی شعبہ بھی نشانے پر ہیں، سائبر جرائم پیشہ گروہ اے آئی ماڈلز کو استعمال کرکے زیادہ مؤثر فشنگ پیغامات، جعلی سرمایہ کاری اسکیمیں اور شناختی فراڈ کے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔

امریکی حکام نے یہ بھی بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز، جن میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے ماڈلز شامل ہیں، کو دیگر سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے یا ان کے غلط استعمال کی کوششوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے، ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اے آئی سے متعلق فراڈ کے باعث امریکی شہریوں کو تقریباً 2 کھرب 48 ارب روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر معمولی سرمایہ کاری پیشکشوں، مشکوک پیغامات، جعلی ویڈیوز اور آوازوں کے ذریعے کیے جانے والے رابطوں میں احتیاط برتیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *