بھارت کی جانب سے غزہ جنگ میں اسرائیل کی معاونت، ایمنسٹی رپورٹ جاری
بھارت کی جانب سے غزہ جنگ میں اسرائیل کی معاونت کرنے کے حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی نئی رپورٹ میں اسرائیل کو بھارتی اسلحے کی فراہمی پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے غزہ میں جاری کارروائیوں میں شراکت داری کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔
عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو ہتھیاروں اور متعلقہ سامان کی ترسیل فوری طور پر روکی جائے۔
رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 کے درمیان بھارت نے اسرائیل کو کم از کم 2 ہزار 596 اسلحہ کھیپ روانہ کیں۔
’میڈ اِن انڈیا‘کے عنوان سے شائع ہونے والی اس تحقیق میں شپمنٹ کی سطح کے تجارتی اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہوئے اسلحے، گولہ بارود، پرزہ جات اور دیگر فوجی سامان کی ترسیل کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ان برآمدات میں چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے، توپ خانے کے گولوں کے خول اور لوئٹرنگ میونیشنز کے لیے دھماکا خیز وارہیڈز بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض کھیپ اسرائیلی دفاعی کمپنیوں ایلبٹ سسٹمز، رافیل اور اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کو فراہم کی گئیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ نے کہا کہ اسرائیل کو اسلحے کی منتقلی بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں فوری طور پر بند ہونی چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب متعدد سپلائر کمپنیاں براہ راست بھارتی ریاست کی ملکیت یا اس کے کنٹرول میں ہیں۔
تنظیم کے مطابق بھارتی حکومت اور رپورٹ میں شامل 9 کمپنیوں سے وضاحت طلب کی گئی، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک کسی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔