براڈ پیک سانحہ: کے ٹو سر کرنے کی مہم مؤخر
اسکردو: دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کی مہم براڈ پیک پر پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد عارضی طور پر مؤخر کر دی گئی ہے۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں نے اپنی صعودی مہم روک کر براڈ پیک پر جاری ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کے ٹو پر موجود متعدد کوہ پیماؤں کو آج رات چوٹی کی جانب پیش قدمی شروع کرنا تھی، براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے باعث تمام ٹیموں نے اپنی مہم ملتوی کر دی اور فوری طور پر بیس کیمپ کی جانب واپسی شروع کر دی۔
کوہ پیمائی ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ٹو پر موجود ملکی و غیر ملکی ٹیمیں بیس کیمپ پہنچنے کے بعد براڈ پیک پر جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیں گی تاکہ لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش اور امدادی سرگرمیوں میں تعاون کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر اچانک برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں دس کوہ پیماؤں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا، جن میں معروف نیپالی کوہ پیما نمس دائی اور پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی بھی شامل تھے۔
ریسکیو حکام کے مطابق اب تک چار کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ دیگر چھ لاپتہ افراد کی تلاش دشوار موسمی حالات کے باوجود جاری ہے۔ خراب موسم، شدید سردی اور برفانی تودوں کے مسلسل خطرے کے باعث امدادی کارروائیوں کو انتہائی احتیاط سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔