|

دفتر خارجہ نے انسداد دہشت گردی، ایران اور کشمیر پر اہم مؤقف پیش کردیا

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان، مشرق وسطیٰ اور کشمیر سے متعلق اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن، سفارتی رابطوں اور انسداد دہشت گردی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں مختلف علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بدخشاں اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں افغان طالبان فورسز اور حزب اختلاف کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک امریکا انسداد دہشت گردی مذاکرات ایک مسلسل عمل ہیں، جن میں دونوں ممالک مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان انٹیلی جنس تعاون موجود ہے اور اس کی موجودہ سطح اطمینان بخش ہے۔ ترجمان کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ بلوچستان لبریشن آرمی سمیت بعض گروہوں کو بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ دفاعی مصنوعات کی برآمدات قومی برآمدات کا حصہ ہیں اور نجی شعبے کی برآمدات سے قومی خزانے کو بھی آمدن حاصل ہوتی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے میں پاکستان تعمیری کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ عمان کی سفارتی کوششیں بھی قابل قدر ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف 6 سے 8 اگست تک سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

کشمیر کے معاملے پر ترجمان نے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں فوجی موجودگی برقرار ہے اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو ختم نہیں کر سکتے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *