|

امریکا، ایران معاہدے کا ابتدائی مسودہ تمام فریقین کو بھجوا دیا: قطر

قطر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق بحران کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں جبکہ مختلف فریقوں کے درمیان ممکنہ معاہدے کے ابتدائی مسودوں پر مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔

دوحہ میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے حل کے لیے سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں اور متعلقہ فریق ایک قابلِ قبول سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے سرگرم ہیں، موجودہ پیش رفت اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ مذاکراتی عمل مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ممکنہ معاہدے کے ابتدائی مسودے مختلف متعلقہ فریقوں تک پہنچا دیے گئے ہیں تاکہ ان پر مشاورت اور تجاویز کا تبادلہ کیا جا سکے، ایسے مسودوں کی تیاری اور ان کا مختلف شراکت داروں کے ساتھ تبادلہ کسی بھی سفارتی عمل کا معمول کا حصہ ہوتا ہے اور اسی طریقہ کار کے ذریعے اتفاقِ رائے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔

ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر، عمان کے ساتھ مل کر امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے، پیغامات کی ترسیل، تجاویز کے تبادلے اور ممکنہ معاہدے کی مختلف شقوں پر مشاورت میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، خطے کے کئی ممالک بھی اس تنازع کے پرامن حل کے لیے مشترکہ کوششوں میں شریک ہیں۔

قطری ترجمان نے واضح کیا کہ ثالثی کرنے والے ممالک کی فوری ترجیح یہ ہے کہ ایسا عارضی اور مختصر المدتی حل تلاش کیا جائے جس کے ذریعے امریکا اور ایران دوبارہ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کر سکیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے لیے کسی باقاعدہ شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر سفارتی رابطے جلد نتیجہ خیز ثابت ہوئے تو ایک جامع معاہدے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، جس سے نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے امکانات بھی مزید مضبوط ہوں گے۔

ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ قطر کو توقع ہے کہ تمام متعلقہ فریق موجودہ سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات ہی کو واحد مؤثر راستہ بنائیں گے، کیونکہ خطے میں پائیدار امن کا انحصار بھی اسی عمل کی کامیابی پر ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *