اسرائیلی درندگی: حماس قیدیوں کو ڈرانے کے لیے جیل کے گرد مگرمچھ چھوڑ دیے
اسرائیل نے جنوبی علاقے میں واقع کتسیعوت جیل کے ایک انتہائی حساس وارڈ کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں تعمیر کرنے کے تجرباتی منصوبے پر عملی کام شروع کر دیا ہے۔ اس غیر معمولی اقدام نے ملک میں قانونی، ماحولیاتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ اس منصوبے کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ شیکل، یعنی تقریباً 63 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کی رپورٹ کے مطابق جیل کے مخصوص حصے کے گرد کھدائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ رمات النقب ریجنل کونسل کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ زیرِ تعمیر خندق تقریباً 170 میٹر طویل ہوگی۔ ان کے مطابق یہ مقام جیل کے باہر سے دکھائی نہیں دیتا جبکہ ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مگرمچھوں کو فوری طور پر وہاں منتقل کیا جائے گا یا صرف اس مقصد کے لیے تمام انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی قومی سلامتی کی وزارت نے منصوبے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مگرمچھوں کے لیے مخصوص نہروں کی تعمیر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ پیش رفت ماحولیاتی تحفظ کی وزیر عیدیت سیلمن کے حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آئی، جنہوں نے اپنی وزارت کے ماہرین اور قانونی مشیروں کے اعتراضات کے باوجود نیل کے مگرمچھ کو “پالتو جنگلی جانور” کی نئی درجہ بندی دے دی۔
قومی سلامتی کے وزیر اتامار بن گویر کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسی فیصلے نے منصوبے پر عمل درآمد کی قانونی راہ ہموار کی۔ وزارت کے مطابق بن گویر کی منظوری کے بعد کتسیعوت جیل کے ایک وارڈ میں اس تجرباتی منصوبے کا آغاز کر دیا گیا، جسے انہوں نے “مگرمچھ جیل” کا نام دیا ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیل سروس نے مگرمچھوں کی رہائش، خوراک، نگہداشت اور طبی ضروریات سے متعلق مکمل منصوبہ تیار کر لیا ہے جبکہ جیل کے حفاظتی عملے کو ان جانوروں سے نمٹنے اور مقام کی حفاظت کے لیے خصوصی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ان اہلکاروں پر دباؤ کم کرنا ہے جو 7 اکتوبر کے حملے میں ملوث قرار دیے جانے والے حماس کی القسام بریگیڈ کی نخبہ فورس سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کی نگرانی پر تعینات ہیں۔ وزارت نے سخت اور متنازع مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ قتل و غارت اور تشدد میں ملوث افراد کی نگرانی ایسے ہی خطرناک جانوروں کے ذریعے کی جانی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت نیل کے مگرمچھوں کی محدود تعداد حمت گادیر کے جنگلی حیات مرکز میں موجود ہے، جبکہ صحرائے عربہ کے کروکولوکو مگرمچھ فارم میں 200 سے زائد مگرمچھ رکھے گئے ہیں۔ تاہم فارم انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جیل منصوبے کے لیے ان سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وائلڈ لائف اتھارٹی اور نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی نے منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس پر عمل درآمد کے لیے موجودہ قوانین میں بنیادی تبدیلیاں درکار ہوں گی۔
اداروں کا مؤقف ہے کہ جنگلی جانوروں کو جیلوں کی سیکیورٹی کے لیے استعمال کرنے کی نہ کوئی سائنسی بنیاد موجود ہے اور نہ ہی دنیا میں اس کی کوئی نظیر ملتی ہے۔
نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی کی کونسل نے اس معاملے پر خصوصی اجلاس منعقد کیا، جس میں شریک تمام ارکان نے منصوبے کو مسترد کر دیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ موجودہ قانون جنگلی جانوروں کو صرف تحقیق، تعلیم اور عوامی آگاہی جیسے مقاصد کے لیے رکھنے کی اجازت دیتا ہے، نہ کہ حفاظتی یا سیکیورٹی ذمہ داریوں کے لیے۔
اتھارٹی نے بن گویر اور عیدیت سیلمن کو بھیجے گئے خط میں واضح کیا کہ اداروں کی ذمہ داری جنگلی حیات کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں انسانوں کی حفاظت کے لیے بطور ذریعہ استعمال کرنا۔ ان کے مطابق قانون کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ جنگلی جانوروں کو جیلوں کی نگرانی جیسے کاموں میں استعمال کیا جائے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیل کے مگرمچھ کو “پالتو جنگلی جانور” قرار دینے کا فیصلہ دراصل منصوبے کے لیے قانونی راستہ نکالنے کی کوشش ہے۔ ماضی میں یہ درجہ بندی مگرمچھ کی کھال کی تجارتی صنعت کے لیے استعمال کی جاتی تھی، تاہم جانوروں کے فرار اور عوامی سلامتی کو لاحق خطرات کے باعث اسے بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ فیصلہ عملاً جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق قانون کی ایک معطل شق کو دوبارہ فعال کرتا ہے، جس میں “سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے پالتو جنگلی جانور” کی نئی درجہ بندی شامل کی گئی ہے۔ تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی بنیادی قانونی تبدیلی صرف پارلیمنٹ کی باقاعدہ قانون سازی سے ہی ممکن ہے، کسی وزارتی نوٹیفکیشن یا انتظامی حکم کے ذریعے نہیں۔