ہائی اور لو
|

ہائی اور لو بلڈ پریشر میں کتنا نمک کھانا چاہیے؟

بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے خوراک میں نمک کی مقدار ایک اہم معاملہ ہے۔ نمک جسم کے لیے ضروری ہے، تاہم اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال خون کے دباؤ کو متاثر کرسکتا ہے، اسی لیے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو عموماً نمک کم استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

معروف طبی ماہر ڈاکٹر بمل چھاجڑ کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کا مطلب یہ نہیں کہ نمک مکمل طور پر ترک کردیا جائے، کیونکہ جسم کے معمول کے افعال کے لیے سوڈیم کی مناسب مقدار ضروری ہوتی ہے۔ تاہم ہر فرد کا جسم نمک کے اثرات کے حوالے سے مختلف حساسیت رکھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر بمل چھاجڑ نے بتایا کہ بعض افراد یہ جاننے کے لیے کہ نمک ان کے بلڈ پریشر پر کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے، مختلف دنوں میں بلڈ پریشر کی پیمائش کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ تاہم ایسے تجربات خود سے کرنے کے بجائے خصوصاً بلڈ پریشر کے مریضوں کو طبی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے، کیونکہ خوراک میں جان بوجھ کر نمک بڑھانا بعض افراد کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق صحت مند بالغ افراد کو روزانہ 5 گرام سے کم نمک استعمال کرنا چاہیے، جو تقریباً ایک چھوٹے چمچ کے برابر مقدار بنتی ہے۔ اس مقدار میں صرف کھانے میں الگ سے شامل کیا جانے والا نمک ہی شامل نہیں بلکہ مختلف غذاؤں اور تیار شدہ اشیا میں موجود نمک بھی شمار ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے معاملے میں نمک کی مقدار پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے، کیونکہ زیادہ سوڈیم کا استعمال جسم میں پانی کے اخراج کے توازن کو متاثر کرسکتا ہے اور بعض افراد میں خون کے دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسے افراد کو نمکین اور زیادہ نمک والی تیار شدہ غذاؤں کا استعمال محدود رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

 

دوسری جانب کم بلڈ پریشر کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں اور ہر صورت میں اس کا حل زیادہ نمک کھانا نہیں ہوتا۔ جسم میں پانی کی کمی، بعض بیماریوں، ادویات کے اثرات اور دیگر طبی عوامل بلڈ پریشر کم ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے لو بلڈ پریشر کے مریضوں کو بھی اپنی مرضی سے نمک کی مقدار بڑھانے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

 

جسم میں پانی کی شدید کمی کی صورت میں خون کی گردش کے لیے دستیاب سیال کی مقدار کم ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر گرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں علاج کا انحصار اصل وجہ پر ہوتا ہے اور بعض حالات میں جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

 

طبی ماہرین کے مطابق کم بلڈ پریشر کی عام علامات میں کمزوری، چکر آنا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا، بے ہوشی محسوس ہونا اور ٹھنڈا پسینہ آنا شامل ہوسکتا ہے۔ اگر یہ علامات بار بار ظاہر ہوں تو انہیں محض نمک کی کمی سمجھنے کے بجائے طبی معائنہ کرانا ضروری ہے۔

 

ہائی بلڈ پریشر اکثر کسی واضح علامت کے بغیر بھی موجود رہ سکتا ہے، تاہم بہت زیادہ بلڈ پریشر کی صورت میں بعض افراد کو شدید سر درد، چکر، نظر دھندلانے یا سانس لینے میں دشواری جیسی شکایات ہوسکتی ہیں۔ اچانک اور شدید علامات کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے صرف کھانے کی میز پر نمک کم کرنا کافی نہیں، بلکہ روزمرہ خوراک میں شامل تیار شدہ غذاؤں پر بھی نظر رکھنا چاہیے۔ اچار، نمکین اشیا، بعض تیار شدہ کھانے اور دیگر محفوظ کی گئی غذاؤں میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوسکتی ہے، اس لیے ان کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

 

طبی ماہرین کے مطابق نمک کی مناسب مقدار ہر فرد کے لیے یکساں نہیں ہوسکتی۔ عمر، صحت کی مجموعی صورتحال، گردوں اور دل سے متعلق مسائل، استعمال کی جانے والی ادویات اور بلڈ پریشر کی کیفیت جیسے عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

 

اس لیے ہائی یا لو بلڈ پریشر میں مبتلا افراد کو اپنی خوراک میں اچانک بڑی تبدیلی کرنے، نمک مکمل طور پر ترک کرنے یا اپنی مرضی سے اس کی مقدار بڑھانے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ مناسب مقدار کا تعین فرد کی طبی صورتحال کے مطابق کیا جانا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

 

ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے نمک کے استعمال کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، وزن کو صحت مند حدود میں رکھنا اور باقاعدگی سے بلڈ پریشر کی پیمائش بھی اہم ہے۔ نمک کے معاملے میں اعتدال اور طبی مشورے پر عمل ہی صحت کے لیے زیادہ محفوظ راستہ ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *