حوثیوں کا سعودی
| | |

حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مارگرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے

یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کا ایک ایف-15 جنگی طیارہ مار گرایا ہے جبکہ سعودی اتحاد نے یمن میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹ اور حوثی عسکری میڈیا کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی، جس میں مسلح حوثی جنگجو ایک تباہ شدہ طیارے کے ملبے کے قریب کھڑے دکھائی دیتے ہیں، ویڈیو کے ساتھ جاری بیان میں حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ حوثی فورسز نے سعودی فضائیہ کا ایک ایف-15 طیارہ نشانہ بنا کر تباہ کیا۔

آزاد ذرائع سے نہ تو اس ویڈیو کے مقام کی تصدیق ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ ویڈیو کب فلمائی گئی، دستیاب معلومات کے مطابق 16 ستمبر سے قبل اس ویڈیو کا کوئی پرانا ورژن آن لائن نہیں ملا۔

ویڈیو میں دکھائی دینے والے طیارے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے فوری طور پر اس کے ماڈل کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی، البتہ طیارے کے دم والے حصے پر سعودی عرب کا قومی پرچم واضح طور پر نظر آتا ہے، جس سے اس کے سعودی فضائیہ سے تعلق رکھنے کا تاثر ملتا ہے۔

ویڈیو کے مختلف مناظر میں ملبے کی شکل، ساخت اور جلنے کے آثار ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تمام تصاویر اور مناظر ایک ہی طیارے کے ملبے کی عکاسی کر رہے ہیں۔

سعودی حکام کی جانب سے تاحال حوثیوں کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ طیارے کی تباہی اور اس کی نوعیت کے بارے میں آزادانہ تصدیق بھی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔

علاوہ ازیں یمن کے صوبہ تعز میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے جنگی طیاروں نے تین ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا ہے۔

حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق فضائی حملے تعز ضلع کے علاقوں الذکرہ اور الحوبان جبکہ ضلع خدیر کے علاقے الراھدہ میں واقع مواصلاتی ٹاورز پر کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر جانی نقصان یا زخمیوں کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے ان حملوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جاری تنازع کے دوران مواصلاتی اور دیگر اہم تنصیبات متعدد مرتبہ حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *