ایرانی فوج کا اردن اور بحرین میں امریکی اڈوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ
ایران کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے ردعمل میں اردن اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی تاحال امریکا، اردن یا بحرین کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صبح کے وقت اردن کے شہر ازرق میں واقع مووفق السلطی ایئر بیس پر ڈرون حملہ کیا گیا، جسے ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں امریکی فوج کی رہائشی اور فلاحی عمارتوں کے علاوہ عسکری سازوسامان رکھنے والے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر آرش خودکش ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا، جہاں امریکی فوجی آلات محفوظ رکھنے والے گوداموں اور طیاروں کی دیکھ بھال کے لیے استعمال ہونے والے ہینگرز کو ہدف بنایا گیا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے ان حملوں کو امریکا کے خلاف اپنی جوابی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا ہے، تاہم دوسری جانب امریکی یا متعلقہ عرب حکام نے اس حوالے سے کسی قسم کی باضابطہ معلومات یا نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی دعوؤں کی بعد میں تصدیق ہوتی ہے تو یہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور مجموعی علاقائی صورتحال پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔