|

میر رضا کیس میں حقائق چھپانے کی کوششیں بے نقاب ہو رہی ہیں، وفاقی وزیر دفاع

اسلام آباد:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات اور سامنے آنے والے شواہد پر اہم ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیس میں جس طرح کور اَپ ثابت ہورہا ہے اور حقائق سامنے آرہے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پورا سسٹم کمپرومائزڈ تھا، اب بھی معاملے پر کڑی نظر رکھنا ہوگی تاکہ ماضی کی طرح دوبارہ مک مکا نہ ہوسکے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک  پروگرام کا ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ جس طرح اس کیس پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے، اس کے نتائج اب سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، میر رضا علی قتل کیس میں جس انداز سے معاملے کو کور اَپ کرنے کی کوششوں کے شواہد سامنے آرہے ہیں اور ایک کے بعد ایک حقائق منظر عام پر آرہے ہیں، اس سے یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ پورا سسٹم کمپرومائزڈ تھا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کیس کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی معلومات اور میڈیکل شواہد نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے، جن کے جوابات حاصل کرنا ضروری ہیں،معاملے کو محض ایک عام فوجداری کیس سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے تمام پہلوؤں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

انہوں نے کہا کہ میر رضا علی کیس پر میڈیا اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے مسلسل توجہ مرکوز کیے جانے کے باعث ایسے حقائق سامنے آرہے ہیں جو پہلے منظر عام پر نہیں آئے تھے، اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تحقیقات کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے۔

خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اب بھی اس معاملے پر پہرہ دینا ہوگا کیونکہ اگر تحقیقات اور شواہد کی نگرانی نہ کی گئی تو ماضی میں جس طرح معاملات میں مک مکا ہوا تھا، ویسا دوبارہ بھی ہوسکتا ہے،میر رضا علی کیس میں اگر کسی سطح پر حقائق چھپانے، شواہد کو نظرانداز کرنے یا تحقیقات کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو اسے بھی سامنے لانا ہوگ، صرف واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کافی نہیں بلکہ اگر کسی نے معاملے کو کور اَپ کرنے کی کوشش کی ہے تو اس کردار کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

وفاقی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ جن لوگوں نے مبینہ طور پر کور اَپ کیا، انہیں بھی بے نقاب ہونا ہوگا،انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اصل واقعے کے ساتھ ساتھ ان تمام عوامل کا بھی جائزہ لیا جائے جن کے باعث حقائق سامنے آنے میں تاخیر ہوئی یا تحقیقات کے عمل پر سوالات اٹھے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میر رضا علی کیس میں شفاف تحقیقات نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ معاشرے کے اعتماد کے لیے بھی ضروری ہیں۔ اگر کسی کیس میں ریاستی اداروں کے بعض اہلکاروں یا متعلقہ افراد کی غفلت، نااہلی یا جانبداری سامنے آتی ہے تو اس کا بھی تعین ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی تحقیقات پر سوالات نہ اٹھیں۔

واضح رہے کہ  میر رضا علی کیس کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی سابقہ تحقیقاتی ٹیم کو ہٹا کر نئی 4 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ نئی ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی کرائم برانچ عامر فاروقی کررہے ہیں جبکہ ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر، ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قیس خان اور ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل انعم کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کے مطابق سابقہ تحقیقاتی ٹیم کو ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد تفتیش سے ہٹایا گیا اور کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے نئی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ میر رضا علی کے والدین بھی سابقہ تحقیقاتی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکے تھے۔

دوسری جانب میر رضا علی کی قبر کشائی کے بعد ہونے والے پوسٹ مارٹم میں جسم کے مختلف حصوں پر متعدد چوٹوں، فائر آرم انجری، پسلی کے فریکچر، اندرونی خون بہنے اور دیگر زخموں کے شواہد سامنے آچکے ہیں۔ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں مزید فرانزک اور کیمیائی تجزیے کے لیے مختلف نمونے بھی محفوظ کیے گئے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *