| |

سعودی عرب کا بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان: پاکستان اور ترکی سمیت 14 ممالک کی حمایت

ریاض: سعودی عرب نے جمعرات کو ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر کے خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کا تحفظ کرنا ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی جہاں اس مجوزہ اتحاد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔یہ اقدام یمن میں حوثیوں کی جانب سے حملوں کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے بحری جہازوں پر حملے کر کے دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک کو متاثر کیا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی، جس میں مجوزہ اتحاد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ منصوبے کے تحت سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور سربراہ ملک ہو گا، جبکہ اس کا مرکزی دفتر بھی سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔

سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد بحری سلامتی کو مضبوط بنانے، جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ، بین الاقوامی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کی راہداریوں کو محفوظ بنانے اور باب المندب اور خلیجِ عدن میں مشترکہ بحری مفادات کے تحفظ میں مدد دے گا۔

سعودی عرب کی وزارت وزارت کے مطابق ترکی، پاکستان، مصر، سوڈان اور جبوتی سمیت 14 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مجوزہ اتحاد کی حمایت کی ہے۔ خلیج کے چھ عرب ممالک میں سے عمان اور متحدہ عرب امارات ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں تھے جنہوں نے اس بیان کی حمایت کی۔

اجلاس میں شریک دیگر ممالک نے بھی اس اقدام کی حمایت کا اظہار کیا، تاہم وہ مشترکہ اعلامیے میں شمولیت کے لیے درکار اپنی اندرونی قومی منظوریوں کا عمل مکمل کر رہے ہیں۔

اس اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اتحاد میں شمولیت کے لیے دروازہ اِن ممالک دیگر دلچسپی رکھنے والے ممالک کے لیے بھی کھلا رہے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *