وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پیپلز پارٹی پر تنقید، آزاد کشمیر کے لیے ترقیاتی پیکج کا اعلان
مظفرآباد: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جن کے اپنے صوبوں کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں وہ آزاد کشمیر کی سڑکیں کیسے بنائیں گے، اور جن کے صوبوں کے وسائل کرپشن کی نذر ہوتے ہیں وہ آزاد کشمیر کو کیا وسائل فراہم کریں گے۔
مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو آزاد کشمیر کے ہر گاؤں تک ترقیاتی منصوبے پہنچائے جائیں گے اور سڑکوں سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ یہاں آکر تقریریں کر رہے ہیں، شکوے شکایتیں اور الزامات لگا رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ وہ شکایت کس سے کر رہے ہیں کیونکہ یہاں حکومت انہی کی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آزاد کشمیر کے لیے مختلف فلاحی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ “اپنی چھت، اپنا گھر” اسکیم کے تحت آزاد کشمیر میں بھی گھروں کی تعمیر کے لیے 5 لاکھ روپے تک معاونت فراہم کی جائے گی، آزاد کشمیر میں دھی رانی پروگرام شروع کیا جائے گا، نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرضے دیے جائیں گے جبکہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور الیکٹرک بائیکس بھی فراہم کی جائیں گی،آزاد کشمیر کے 2 ہزار طلبہ کو ہونہار اسکالرشپ دی جائے گی، جبکہ اب تک آزاد کشمیر کے 400 بچوں کا لاہور میں مفت علاج کیا جا چکا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا منشور یہی ہے کہ پنجاب میں ہونے والی ترقی آزاد کشمیر تک بھی پہنچے،آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں بلکہ وعدے پورے کرنے والوں کا ہے، وہ صرف وعدے نہیں بلکہ پنجاب کی کارکردگی لے کر عوام کے پاس آئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جتنا مضبوط پاکستان ہوگا اتنا ہی مضبوط آزاد کشمیر بھی ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ وہ مظفرآباد مہمان بن کر نہیں آئیں بلکہ آزاد جموں و کشمیر کو اپنا گھر سمجھتی ہیں، وہ دل، دماغ، روح اور نسلوں سے کشمیری ہیں، جبکہ 2021 کی انتخابی مہم کے دوران ملنے والی محبتیں اور دعائیں وہ کبھی نہیں بھول سکتیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2021 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی 17 نشستیں اور اس وقت کے وزیراعظم کی 3 نشستیں تھیں،، انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے جس کے باعث آج آزاد کشمیر میں مسائل موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے دیے وہ ان کے دوست نہیں ہو سکتے جبکہ مریم نواز اور نواز شریف نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ووٹ مانگنے نہیں آئیں، تاہم اگر عوام نے مسلم لیگ (ن) کو منتخب کیا تو آزاد کشمیر کی قسمت بدلنے کا وعدہ کرتی ہیں، پنجاب اور دیگر علاقوں کے حالات میں فرق کی وجہ قیادت اور پالیسیوں کا فرق ہے۔
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی محنت سے جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ صوبائی وزیر تعلیم کا بیٹا بھی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، ایک بزرگ جلسہ گاہ میں وقت سے پہلے پہنچ گئے تھے۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ مریم نواز کو دیکھنے کے شوق میں ایک دن پہلے آ گئے ہیں۔