میر رضا کی قبرکشائی کے انتظامات مکمل، والد نے روک دیا، میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر اعتراض
کراچی: نوجوان تاجر میر رضا کی قبرکشائی کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے، تاہم ان کے والد نے قبرکشائی کی اجازت دینے سے انکار کردیا، جس کے باعث پولیس ٹیم کو پی ای سی ایچ ایس قبرستان سے واپس لوٹنا پڑا۔
پولیس کی ٹیم میر رضا کی قبرکشائی کے لیے پی ای سی ایچ ایس قبرستان پہنچی تھی، تاہم مقتول کے والد نے انتظامیہ کو روک دیا۔ میر رضا کے والد کا مؤقف ہے کہ راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کردیا گیا ہے، جس کے باعث انہیں نئے میڈیکل بورڈ کی کارروائی پر تحفظات ہیں اور وہ موجودہ صورتحال میں اپنے بیٹے کی قبرکشائی نہیں ہونے دیں گے۔
میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے قبرستان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سامنے آنے والی صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم پر پولیس سرجن اور پولیس کی موجودگی میں میڈیکل ٹیم تشکیل دی گئی تھی، تاہم بعد میں میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کردی گئی۔
جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ حیدرآباد کو میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کا کیا اختیار ہے اور رات کے وقت میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک باپ نے اپنی جوان اولاد کھوئی ہے اور اسے انصاف ملنا چاہیے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر نے گزشتہ 8 روز سے میر رضا کے مقدمے کے مدعی کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 8 روز تک گولی کا خول نہیں مل رہا تھا اور اب اچانک مل گیا ہے۔ جبران ناصر نے کہا کہ قبرکشائی کوئی معمولی معاملہ نہیں، اس لیے وہ موجودہ صورتحال میں قبرکشائی کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ صبح عدالت بھی گئے تھے اور مجسٹریٹ کے کچھ دیر میں قبرستان پہنچنے کی توقع ہے، جس کے بعد معاملے پر مزید پیش رفت ہوگی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ پر پہلے ہی سوالات اٹھ چکے
دوسری جانب میر رضا کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ پر بھی پہلے ہی سوالات اٹھائے جا چکے ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے ایس پی ایسٹ کو خط لکھ کر ڈاکٹر اسامہ شیخ کی تیار کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔
ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے، انٹری زخم پر موجود بارود کے نشانات کا کیمیکل تجزیہ نہیں کیا گیا جبکہ فارنزک معیار کے مطابق ضروری تصاویر بھی نہیں بنائی گئیں۔
خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ گولی کے انٹری اور ایگزٹ زخموں کے حوالے سے ہڈیوں کے نشانات کی بنیاد پر مناسب وضاحت موجود نہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انٹری زخم کا سائز ایگزٹ زخم کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑا درج کیا گیا، جس کی دوبارہ جانچ اور تصدیق ضروری قرار دی گئی۔
جسم پر زخموں کی تصاویر بھی سامنے آگئیں
میر رضا کیس سے متعلق سامنے آنے والی تصاویر میں ان کی شرٹ پر گولی کا نشان اور شرٹ سے باہر نکلے ہوئے دھاگے دکھائی دیتے ہیں۔ تصاویر میں پاؤں پر زخم جیسے نشانات جبکہ دائیں جانب پسلیوں پر بھی مبینہ تشدد کے نشانات دکھائی دیتے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج کیا گیا تھا کہ گولی سینے سے داخل ہوکر کمر کی جانب سے نکلی، تاہم رپورٹ کے دیگر نکات اور جسم پر موجود مبینہ زخموں کے حوالے سے مزید وضاحت اور فرانزک جانچ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
قبرکشائی کا مقصد نئے سرے سے میڈیکل اور فرانزک شواہد کا جائزہ لینا تھا، تاہم میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر اہلخانہ کے اعتراض کے باعث کارروائی فی الحال رک گئی ہے۔ معاملے پر حتمی پیش رفت عدالت اور متعلقہ حکام کی ہدایات کے بعد متوقع ہے۔