|

براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کا سانحہ، چار کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد، چھ لاپتہ افراد کی تلاش جاری

اسکردو: گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے المناک واقعے میں لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں میں سے مزید ایک کی لاش برآمد ہونے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد چار ہو گئی جبکہ دیگر چھ لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔

بیس کیمپ ذرائع کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے انتہائی دشوار موسمی حالات اور برف سے ڈھکے خطرناک علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری رکھیں، جس کے دوران مزید ایک کوہ پیما کی لاش برآمد کی گئی۔ اس سے قبل تین لاشیں نکالی جا چکی تھیں جبکہ باقی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع آٹھ ہزار سینتالیس میٹر بلند براڈ پیک پر اچانک برفانی تودہ گرنے سے معروف نیپالی کوہ پیما نمس دائی، پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی سمیت تقریباً دس کوہ پیما لاپتہ ہو گئے تھے۔

الپائن کلب آف پاکستان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ برفانی تودہ جمعرات کی دوپہر براڈ پیک پر کوہ پیماؤں کے ایک گروپ پر آ گرا، جس کے بعد متاثرہ ٹیم سے رابطہ منقطع ہو گیا، متاثرہ گروپ میں پانچ نیپالی کوہ پیما بھی شامل تھے، جن کی قیادت دنیا کے معروف کوہ پیما نمس دائی کر رہے تھے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم، شدید سردی، برفانی تودوں کے مسلسل خطرے اور دشوار گزار راستوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

براڈ پیک دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے اور ہر سال مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار کوہ پیما اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سخت موسمی حالات اور برفانی تودوں کے باعث یہ چوٹی دنیا کی خطرناک ترین کوہ پیمائی گاہوں میں شمار کی جاتی ہے۔ حالیہ سانحے کے بعد ملکی و غیر ملکی کوہ پیماؤں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے بارے میں کسی خوشخبری کے منتظر ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *