میر رضا علی خان قتل کیس :سندھ کابینہ کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ
کراچی: سندھ کابینہ نے نوجوان تاجر میر رضا علی خان کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے ذریعے واقعے کی غیرجانب دارانہ، شفاف اور جامع تحقیقات کی جائیں گی۔
سندھ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط بھی ارسال کردیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے مرحوم میر رضا علی خان کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے میر رضا علی خان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے،میر رضا علی خان قتل کیس کے حوالے سے اہلِ خانہ کی جانب سے ظاہر کیے گئے خدشات کو سندھ حکومت نے انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور اہلِ خانہ کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کردہ خط بھی حکومت کو موصول ہوچکا ہے۔
ترجمان کے مطابق مجوزہ جوڈیشل کمیشن میر رضا علی خان قتل کیس کی غیرجانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کرے گا اور کیس میں سامنے آنے والے تمام اہم پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔ کمیشن اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ تحقیقات کے دوران کسی اہم پہلو کو نظرانداز تو نہیں کیا گیا یا مزید تفتیش کی ضرورت تو موجود نہیں۔
جوڈیشل کمیشن کو پولیس، میڈیکو لیگل افسران اور دیگر متعلقہ حکام کے کردار کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اگر تحقیقات کے دوران کسی افسر یا اہلکار کی جانب سے غفلت، فرائض سے کوتاہی، پیشہ ورانہ بدعنوانی یا شواہد میں ردوبدل ثابت ہوا تو کمیشن متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کرسکے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کو مزید تحقیقات اور فرانزک تجزیے کی سفارش کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ کمیشن سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969ء کے تحت سول کورٹ کے اختیارات استعمال کرسکے گا۔ اسے گواہوں کو طلب کرنے، حلف پر بیانات قلمبند کرنے اور متعلقہ دستاویزات و ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام متعلقہ سرکاری محکموں، اداروں اور افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور تحقیقات کے دوران مطلوبہ ریکارڈ اور معلومات فراہم کریں۔ محکمہ داخلہ کمیشن کو ضروری سیکریٹریٹ معاونت بھی فراہم کرے گا۔
ترجمان کے مطابق جوڈیشل کمیشن اپنے قیام کے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ، نتائج اور سفارشات سندھ حکومت کو پیش کرے گا، اگر مکمل اور منصفانہ تحقیقات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو کمیشن کی مدت میں توسیع کی جاسکے گی۔
کمیشن کو تحقیقات کے طریقۂ کار، کیس سے متعلق شواہد اور متعلقہ حکام کے کردار کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی سفارش کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان نے کہا کہ سندھ حکومت مرحوم میر رضا علی خان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مقصد واقعے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا ہے،غیرجانب دارانہ جوڈیشل انکوائری سے اہلِ خانہ کے جائز خدشات کا ازالہ ہوگا اور قانون کی حکمرانی پر عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔