ن لیگ سے اتحاد میں پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچا، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر
مظفرآباد: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، تاہم مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد میں پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچا۔ انہیں محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان میں بھی سیاسی حالات تبدیل ہورہے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ گزشتہ 7 ماہ کے دوران وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کو اس طرح سپورٹ نہیں کیا جس طرح وعدے کیے گئے تھے۔ پیپلز پارٹی نے ریاست کے اندر سیاست کو ترجیح نہیں دی بلکہ ریاستی معاملات کو اہمیت دی، مسلم لیگ ن نے ریاست کو اہمیت دینے کے بجائے سیاست کو ترجیح دی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے حالات بہتر کرنے کی کوشش کی، انہیں خراب کرنے کی نہیں۔ حکومت نے اپنی مدت کے دوران سیاسی اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی اور تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جن کی وجہ سے عوامی احتجاج سامنے آیا تھا۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کا شیڈول جاری ہوتے ہی اختیارات الیکشن کمیشن کے پاس منتقل ہوجاتے ہیں۔ 5 جون کو انتخابات کا شیڈول جاری ہوا، جس کے بعد حکومت نے سیاسی اعتماد بحال کرنے کے لیے کل جماعتی کانفرنس بلائی اور تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی، افسوس ہے کہ کل جماعتی کانفرنس میں ان کی بات نہیں سنی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں جاری بحران کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ چند سال قبل ایک ایسا نظام متعارف کرایا گیا جسے عوام نے قبول نہیں کیا۔ تمام تر صورتحال کے باوجود انتخابات کروائے گئے، اگرچہ تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ 7 ماہ کی حکومت کے دوران پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے اندر سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کیا۔ جن مسائل کی وجہ سے مظاہرے ہورہے تھے، حکومت نے ان تمام معاملات کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں سیاست کے بجائے ریاست کو بچانے کی کوشش کی۔ حکومت نے ہر ممکن کوشش کی کہ وفاق کے ساتھ تعلقات اچھے رہیں، وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کو فنڈز کی فراہمی کے معاملے پر مثبت رویہ اختیار نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت نے انتخابی عمل کے انعقاد کے لیے 10 ارب روپے کی رقم فراہم کی۔ حکومت نے سیاسی ماحول کو سازگار بنایا اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے آزاد ماحول فراہم کیا، جس کے باعث انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔
مہاجرین کی نشستوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کا سب سے مقبول بیانیہ مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ تھا، اگر مہاجرین کی نشستیں کم کردی جاتیں تو کیا ہوجاتا؟ اس وقت مسلم لیگ ن اس معاملے پر تیار نہیں تھی، اب جب اس حوالے سے بات کی جارہی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلی حکومت کو قانون سازی کا اختیار نہیں تھا؟
انہوں نے کہا کہ اب مسلم لیگ ن کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔
اپنی حکومت کے دوران پیش آنے والے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ایک وقت میں انہیں مقبول وزیراعظم کہا گیا اور بعد میں قاتل وزیراعظم قرار دیا گیا،ان کا ضمیر مطمئن ہے اور انہوں نے انسانی جانیں بچانے کی بھرپور کوشش کی،انہوں نے ایکشن کمیٹی کے ارکان سے ملاقاتیں کیں اور ان کے گھر تک گئے۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ میاں نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ کشمیر کے بجٹ کو 10 گنا بڑھایا جائے گا۔ ہم نے کہا تھا کہ 10 گنا نہیں تو کم از کم بجٹ دگنا ہی کردیا جائے۔ اب مسلم لیگ ن کی حکومت ہے، اس لیے آزاد کشمیر کا بجٹ بڑھایا جائے اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کے متعدد منصوبے مکمل کیے گئے اور عوام کو صحت و تعلیم کی سہولیات فراہم کی گئیں، گزشتہ 50 برسوں میں مسلم لیگ ن اور مسلم کانفرنس کی حکومتیں رہی ہیں لیکن مسلم لیگ ن نے اس عرصے کے دوران ایک بھی میڈیکل کالج نہیں بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں میڈیکل کالجز کے قیام سمیت صحت کے شعبے میں سہولیات فراہم کیں اور عوام کو بہتر طبی سہولیات دینے کے لیے اقدامات کیے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ریاستی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دی اور موجودہ حالات میں بھی پارٹی نے اپنی استطاعت کے مطابق آزاد کشمیر کے سیاسی و انتظامی بحران کو حل کرنے کی کوشش کی۔