پاکستانی ڈیٹا سینٹر میں جدید اے آئی چپس کی تنصیب کی تیاریاں تیز
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اے آئی ڈیٹا والٹ میں جدید لیکوڈ کولنگ سسٹم کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد نئی نسل کی اے آئی چپس کے لیے موزوں ماحول فراہم کرنا اور ملک کے اندر ڈیٹا پروسیسنگ کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
اس منصوبے کے لیے ڈیٹا والٹ نے امریکی کمپنی سپر مائیکرو کمپیوٹر کے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ماہرین کی ٹیم نے کراچی میں قائم ڈیٹا سینٹر کا دورہ کیا اور موجودہ کولنگ سسٹم کا جائزہ لے کر اسے لیکوڈ بیسڈ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے امکانات کا تفصیلی معائنہ کیا۔
حکام کے مطابق امریکی ماہرین جلد اپنی تکنیکی رپورٹ پیش کریں گے، جس کی روشنی میں جدید کولنگ انفرا اسٹرکچر کی تنصیب مکمل کی جائے گی۔ نئی نسل کی مصنوعی ذہانت چپس زیادہ درجہ حرارت پیدا کرتی ہیں، اس لیے ان کی مؤثر کارکردگی کے لیے لیکوڈ کولنگ ٹیکنالوجی کو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ڈیٹا والٹ میں جدید اے آئی چپس نصب کی جائیں گی، جس سے ملک کے اندر حساس ڈیٹا کو محفوظ انداز میں ذخیرہ کرنے اور تیز رفتار پروسیسنگ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس سے مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت سے متعلق خدمات کو بھی فروغ ملے گا۔
واضح رہے کہ ڈیٹا والٹ کو پاکستان کا پہلا خودمختار اے آئی ریڈی ڈیٹا سینٹر قرار دیا جاتا ہے، جو مقامی مصنوعی ذہانت کے انفرا اسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ حکومت کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت کے شعبے کو فروغ دے کر معیشت اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔