|

انفیکشن سے بچاؤ: خارش یا جلن پر آنکھیں رگڑنے سے گریز کریں، ماہرین کی ہدایات

مون سون کے دوران نمی اور آلودگی کے باعث آنکھوں کے انفیکشن کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ برسات کے دنوں میں جراثیم اور بیکٹیریا کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے جو انسانی آنکھوں کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔

بارشوں کے موسم میں فضا میں موجود گرد و غبار، آلودہ پانی اور الرجی پیدا کرنے والے ذرات آنکھوں میں سوزش، سرخی اور درد کا باعث بنتے ہیں۔ ان علامات کے ظاہر ہونے سے انسان کے روزمرہ کے معمولات بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں جن پر توجہ ضروری ہے۔

آنکھوں کی حفاظت کے لیے سب سے اہم قدم حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھونا اور آلودہ ہاتھوں سے آنکھوں کو چھونے سے گریز کرنا اس بیماری سے بچاؤ کی سب سے مؤثر حکمتِ عملی ہے۔

آنکھوں میں تکلیف یا خارش محسوس ہونے کی صورت میں انہیں بار بار رگڑنے کی غلطی نہ کریں، کیونکہ یہ عمل جراثیم کے پھیلاؤ کو بڑھا دیتا ہے۔ آنکھیں صاف کرنے کے لیے ہمیشہ صاف ٹشو یا نرم رومال کا استعمال کرنا ہی بہترین اور محفوظ ترین طریقہ ہے۔

انفیکشن سے نمٹنے کے لیے نیم گرم کپڑے سے آنکھوں کی سیکا ئی کرنا آرام دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ اس دوران میک اپ کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ آنکھوں کی حساسیت مزید نہ بڑھے، تاہم اگر میک اپ ضروری ہو تو صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

ذاتی اشیا جیسے تولیہ، تکیے کے غلاف اور بیڈ شیٹس کو باقاعدگی سے تبدیل کرنا اور گرم پانی سے دھونا جراثیم کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اپنی استعمال شدہ اشیاء دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں تاکہ انفیکشن کو ایک فرد سے دوسرے تک پھیلنے سے روکا جا سکے۔

اگر علامات برقرار رہیں یا تکلیف میں شدت محسوس ہو تو خود سے ادویات استعمال کرنے کے بجائے فوراً ماہرِ امراضِ چشم سے رجوع کریں۔ ڈاکٹر کی تجویز کردہ اینٹی بائیوٹک یا اینٹی وائرل آئی ڈراپس ہی بیماری کو جڑ سے ختم کرنے اور آنکھوں کو شدید نقصان سے بچانے کا واحد محفوظ ذریعہ ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *