|

پرندے کی طرح اڑنے اور مچھلی کی طرح تیرنے والا روبوٹ تیار

سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید روبوٹ تیار کر لیا ہے جو بیک وقت فضا میں پرواز کرنے اور پانی کے اندر تیرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے مستقبل میں سمندری ماحول کی نگرانی، آبی حیات کے تحفظ اور تحقیقی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکا کے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایرو ایکواٹک روبوٹکس ٹیم کی جانب سے تیار کیا گیا یہ منفرد روبوٹ ساخت کے اعتبار سے ان غوطہ خور پرندوں سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے، جو ایک ہی پروں کی مدد سے آسمان میں اڑتے اور پانی میں تیرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ماضی میں غوطہ خور پرندوں کی پرواز اور تیرنے کے انداز پر متعدد سائنسی تحقیقات کی جا چکی تھیں، تاہم ان خصوصیات کو کسی متحرک روبوٹ میں یکجا کرنا ایک بڑا تکنیکی چیلنج تھا۔ اسی مقصد کے لیے محققین نے پرندوں کے جسمانی ڈھانچے اور حرکت کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کے بعد اس نئی مشین کو تیار کیا گیا۔

تقریباً 250 گرام وزنی اس روبوٹ کو بیٹری سے چلنے والی برقی موٹر سے لیس کیا گیا ہے، جبکہ اس کے نائیلون سے تیار کردہ پر اور دم پر پانی سے محفوظ رکھنے والی نینو تہہ چڑھائی گئی ہے، تاکہ یہ آبی ماحول میں بھی مؤثر انداز سے کام کر سکے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس روبوٹ کو اس انداز سے تیار کیا گیا ہے کہ اسے فضا اور پانی کے درمیان فرق محسوس نہیں ہوتا، بلکہ اسے مخصوص تعدد پر اپنے پروں کو حرکت دینے کے لیے پروگرام کیا گیا ہے، جس کی بدولت وہ دونوں ماحول میں بغیر کسی بڑی تبدیلی کے حرکت کر سکتا ہے۔

یہ روبوٹ فضا میں 13.4 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے اور پانی کے اندر 2.2 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے تیرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک مرتبہ مکمل چارج ہونے پر یہ تقریباً 6 کلومیٹر تک پرواز اور 2 کلومیٹر تک پانی میں سفر کر سکتا ہے، اگرچہ حقیقی ماحول میں اس کی مکمل عملی کارکردگی کا جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس منصوبے پر ایک سال تک مسلسل کام کیا گیا، جس کے دوران ابتدائی آزمائشیں میساچوسٹس میں قائم ایک آبی ٹینک میں کی گئیں، جبکہ بعد ازاں روبوٹ کا تجربہ سوئٹزرلینڈ کی جنیوا جھیل میں بھی کیا گیا۔

محققین کا ماننا ہے کہ کم لاگت، ہلکے وزن اور دوہری صلاحیتوں کا حامل یہ روبوٹ مستقبل میں سمندروں اور جھیلوں کی نگرانی، آبی حیات کے تحفظ، ماحولیاتی تبدیلیوں کے مشاہدے اور سائنسی تحقیق میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *