صبح کے وقت
|

صبح کے وقت جسم میں درد اور اکڑن دور کرنے کے آسان طریقے

صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد جسم میں درد، کھنچاؤ یا اکڑن محسوس ہونا ایک عام شکایت ہے، بعض اوقات سونے کی غلط پوزیشن، طویل وقت تک ایک ہی حالت میں رہنے، جسمانی تھکن یا پانی کی کمی کے باعث پٹھوں میں سختی محسوس ہوسکتی ہے۔ تاہم چند آسان تدابیر اختیار کرکے صبح کے وقت ہونے والی اس تکلیف میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

رات بھر ایک ہی پوزیشن میں سونے سے جسم کے مختلف پٹھوں پر مسلسل دباؤ رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صبح اٹھتے وقت گردن، کندھوں، کمر، ہاتھوں یا ٹانگوں میں کھنچاؤ اور بھاری پن محسوس ہوسکتا ہے۔ بعض افراد کو خاص طور پر انگلیوں اور ہاتھوں میں اکڑن کی شکایت ہوتی ہے، جس کی ایک وجہ سوتے ہوئے ہاتھ یا کلائی کا طویل عرصے تک ایک ہی حالت میں رہنا بھی ہوسکتی ہے۔

اگر بیدار ہونے کے بعد جسم میں معمولی اکڑن محسوس ہو تو فوری طور پر سخت ورزش یا جسم پر زیادہ دباؤ ڈالنے کے بجائے آہستہ آہستہ جسم کو حرکت دینا زیادہ مناسب ہے۔ چند معمولی تبدیلیاں صبح کے وقت جسم کو دوبارہ فعال ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔

نیم گرم پانی سے سکون حاصل کریں

صبح کے وقت نیم گرم پانی سے نہانا اکڑے ہوئے پٹھوں کو ڈھیلا کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ تقریباً 5 سے 10 منٹ تک نیم گرم پانی جسم پر پڑنے سے پٹھوں کو آرام مل سکتا ہے اور خون کی روانی بہتر ہونے کے باعث جسم میں موجود کھنچاؤ اور سختی کی کیفیت میں کمی آسکتی ہے۔

خاص طور پر اگر رات کو زیادہ جسمانی تھکن ہوئی ہو تو نیم گرم پانی سے نہانے سے جسم کو سکون مل سکتا ہے۔ تاہم پانی بہت زیادہ گرم رکھنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ انتہائی گرم پانی جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

بیدار ہوتے ہی ہلکی حرکت کریں

رات بھر ایک ہی پوزیشن میں رہنے کے بعد اچانک اٹھ کر تیز ورزش کرنا مناسب نہیں۔ اس کے بجائے بستر سے اٹھنے کے بعد چند منٹ جسم کو آہستہ آہستہ حرکت دینا بہتر ہے۔

گردن کو نرمی سے دائیں اور بائیں جانب حرکت دی جاسکتی ہے، کندھوں کو آہستہ آہستہ گھمایا جاسکتا ہے جبکہ ٹخنوں اور گھٹنوں کو بھی معمولی حرکت دی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد چند منٹ ہلکی چہل قدمی جسم کو متحرک کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

تاہم اگر کسی حرکت سے درد بڑھنے لگے تو اسے فوراً روک دینا چاہیے۔ جسم میں موجود تکلیف کو نظر انداز کرکے زبردستی کھنچاؤ پیدا کرنا مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

صبح پانی پینا بھی مفید

رات کے دوران جسم میں پانی کی مقدار کم ہوسکتی ہے، خاص طور پر گرم موسم میں پسینے کے اخراج کے باعث پانی کی کمی پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار نہ رہے تو بعض افراد کو پٹھوں میں کھنچاؤ اور اکڑن محسوس ہوسکتی ہے۔

اسی لیے بیدار ہونے کے بعد پانی پینا اچھی عادت سمجھی جاتی ہے۔ صبح ایک گلاس پانی سے دن کا آغاز کرنا جسم کو پانی کی ضرورت پوری کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم دن بھر بھی مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔

ہلکی مالش سے بھی آرام مل سکتا ہے

اگر جسم کے کسی مخصوص حصے میں اکڑن زیادہ محسوس ہو تو ہلکے ہاتھ سے مالش کی جاسکتی ہے۔ سرسوں، ناریل یا زیتون کے تیل کو معمولی سا گرم کرکے متاثرہ حصے پر نرمی سے لگایا جاسکتا ہے۔

ہتھیلی یا انگلیوں کی مدد سے پٹھوں پر ہلکا دباؤ ڈالتے ہوئے 10 سے 15 منٹ تک مالش کی جاسکتی ہے۔ جہاں زیادہ سختی محسوس ہو وہاں انگلیوں سے ہلکے دائرے کی صورت میں مالش کی جاسکتی ہے، تاہم بہت زیادہ دباؤ ڈالنے یا درد والی جگہ کو سختی سے دبانے سے گریز کرنا چاہیے۔

مالش کے بعد نیم گرم پانی سے نہانا بھی بعض افراد کے لیے سکون کا باعث بن سکتا ہے۔

سونے کی پوزیشن پر بھی توجہ دیں

صبح اٹھنے کے بعد بار بار جسم میں اکڑن کی شکایت ہو تو رات کے سونے کے انداز کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ بہت زیادہ اونچا یا غیر آرام دہ تکیہ گردن پر دباؤ ڈال سکتا ہے، اس لیے ایسا تکیہ استعمال کرنا چاہیے جو گردن اور ریڑھ کی ہڈی کو مناسب سہارا دے۔

اسی طرح سوتے وقت جسم کو ایسی پوزیشن میں رکھنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے کسی ایک حصے پر مسلسل دباؤ پڑتا رہے۔ مناسب بستر اور آرام دہ سونے کی پوزیشن صبح کے وقت ہونے والی جسمانی سختی کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

غذائی کمی کو بھی نظر انداز نہ کریں

جسم میں بعض غذائی اجزا کی کمی بھی پٹھوں کی صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔ وٹامن ڈی اور کیلشیم جسم کے لیے اہم غذائی اجزا ہیں، اس لیے روزمرہ خوراک میں ان سے بھرپور غذاؤں کو مناسب مقدار میں شامل کرنا چاہیے۔

تاہم اگر کسی شخص کو مسلسل پٹھوں کے درد یا کمزوری کی شکایت ہو تو صرف اپنی مرضی سے غذائی سپلیمنٹ استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ کسی ممکنہ کمی کی درست تشخیص ہوسکے۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے؟

صبح کے وقت کبھی کبھار معمولی اکڑن یا درد عام طور پر تشویش کی وجہ نہیں ہوتا، لیکن اگر یہ کیفیت بار بار ظاہر ہو، کئی دنوں تک برقرار رہے یا درد کی شدت بڑھتی جائے تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اسی طرح اگر اکڑن کے ساتھ ہاتھوں یا پاؤں کی حرکت متاثر ہونے لگے، جسم کے کسی حصے میں مسلسل سن پن محسوس ہو یا درد معمول کی سرگرمیوں میں رکاوٹ بننے لگے تو طبی معائنہ ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق مسلسل یا شدید علامات کے پیچھے مختلف طبی وجوہات ہوسکتی ہیں، اس لیے اصل وجہ معلوم کیے بغیر خود سے علاج کرنا مناسب نہیں۔ صحت سے متعلق یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں اور کسی بیماری کی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں، مسلسل یا شدید شکایت کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *