|

امتحانی پرچے لیک ہونے پر بھارت بھر میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا

نئی دہلی: امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر مودی حکومت کے خلاف بھارتی نوجوانوں کا احتجاج دارالحکومت نئی دہلی سے نکل کر ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا، جہاں سینکڑوں طلبہ اور نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے ساتھ بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاج اب ممبئی، پٹنہ، کیرالا اور گوا سمیت مختلف ریاستوں تک پہنچ چکا ہے، جہاں نوجوان امتحانی نظام میں شفافیت، پرچے لیک ہونے کے واقعات کی تحقیقات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

احتجاج کی قیادت کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے معاملے کا نوٹس لینے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف نوٹس لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، تعلیمی نظام میں اوپر سے نیچے تک نااہل افراد بیٹھے ہیں، جن میں وزیرِ تعلیم بھی شامل ہیں، اور ان کی ترجیح طلبہ کے مستقبل کے بجائے مالی مفادات ہیں۔

تنظیم نے الزام عائد کیا کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حامی عناصر احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے مظاہروں میں پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پرامن تحریک کا رخ موڑ دیا جائے۔

ادھر معروف بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی بھی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرے میں پہنچ گئیں۔ انہوں نے مشہور پاکستانی شاعر فیض احمد فیض کی معروف نظم “بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” پڑھ کر نوجوانوں کا حوصلہ بڑھایا، جس پر مظاہرین نے بھرپور داد دی اور ان کی حمایت کا خیرمقدم کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق امتحانی پرچے لیک ہونے کے متعدد واقعات کے بعد نوجوانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے،بار بار امتحانات متاثر ہونے سے لاکھوں طلبہ کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے جبکہ حکومت اب تک اس مسئلے کا مؤثر اور قابلِ اعتماد حل پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *