شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ طےکرنےکیلئےکام کر رہا ہے، شامی صدر
شامی صدر احمد الشرع نے انکشاف کیا ہے کہ شام اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے کے لیے مختلف ممالک کے تعاون سے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں احمد الشرع نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بارہا اسرائیلی دراندازیوں کے باوجود شام تصادم کا خواہاں نہیں، بلکہ ایک جامع سکیورٹی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں پر شام کے قانونی حق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جن پر اسرائیل 1973 سے قابض ہے۔
الجزیرہ کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور احمد الشرع کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جنوبی شام میں اسرائیلی حملوں اور دراندازیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
لبنان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ شام کا اپنے ہمسایہ ملک میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں، اگرچہ اس حوالے سے مختلف افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت لبنانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایسے عملی اقدامات پر اتفاق کیا جا سکے جو لبنان کو موجودہ بحران سے نکال کر استحکام اور سلامتی کی جانب لے جائیں۔
احمد الشرع نے اس بات پر زور دیا کہ شام لبنان میں اس پالیسی کی حمایت کرتا ہے جس کے تحت ہتھیاروں پر اختیار اور جنگ و امن سے متعلق تمام فیصلے صرف لبنانی ریاست کے پاس ہوں۔ ان کے مطابق لبنان کے بحران کا حل صرف سکیورٹی اقدامات میں نہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی میں ہے جو سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کو بھی مدنظر رکھے۔
اقتصادی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ صرف امریکا اور دیگر ممالک کی اقتصادی پابندیاں ختم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق جب تک شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج نہیں کیا جاتا، معاشی بحالی کے لیے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔