| |

امریکی سینیٹ نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد مسترد، ٹرمپ کو بڑی سیاسی کامیابی مل گئی

واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں امریکی شمولیت محدود کرنے کی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کو تقویت دے دی۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران سے امریکی افواج واپس بلانے سے متعلق جنگی اختیارات کی قرارداد مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی، جس کے بعد صدر کو جاری فوجی حکمت عملی برقرار رکھنے میں سیاسی ریلیف مل گیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ایوان میں ووٹنگ ہوئی، تاہم قرارداد 49 کے مقابلے میں 47 ووٹ حاصل کرکے ناکام ہوگئی۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باضابطہ جنگ کی منظوری نہ دے یا خصوصی اجازت جاری نہ کرے تو صدر ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں روک کر امریکی فوج واپس بلائیں۔

رائے شماری کے دوران دونوں بڑی جماعتوں میں غیر معمولی اختلافات بھی دیکھنے میں آئے۔ ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کے برعکس قرارداد کی حمایت کی، جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس کے علاوہ 4 سینیٹرز رائے شماری میں شریک نہیں ہوئے، جس سے نتائج پر بھی توجہ مرکوز رہی۔

ڈیموکریٹ اراکین اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا، جس کے تحت جنگ کا اعلان صرف کانگریس کر سکتی ہے، تاہم سینیٹ کی حالیہ ووٹنگ نے اس مؤقف کو مطلوبہ پارلیمانی حمایت فراہم نہیں کی۔

یاد رہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل ایوانِ نمائندگان میں بھی ایران جنگ محدود کرنے سے متعلق قرارداد پر پیش رفت ہوئی تھی، تاہم وہاں بھی اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کم حمایت ملی۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی یقینی بنانا تھا، لیکن امریکی عدالتیں اب تک اس قانون کی آئینی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں دے سکیں، جس کے باعث ایسی قرارداد منظور ہونے کی صورت میں بھی اس پر فوری عملدرآمد یقینی نہیں ہوتا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *