ورلڈ فوٹو گرافر
|

ورلڈ فوٹو گرافر ڈے پر کراچی پریس کلب میں پیپ کی تقریب: کیک کاٹاگیا

کراچی: ورلڈ فوٹوگرافر ڈے کے موقع پر پاکستان ایسوسی ایشن آف پریس فوٹوگرافرز(پیپ) کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں فوٹو جرنلزم سے وابستہ افراد اور صحافتی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران ورلڈ فوٹوگرافر ڈے کا کیک بھی کاٹا گیا اور فوٹوگرافروں کی پیشہ ورانہ خدمات کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

تقریب میں مہمان خصوصی کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری محمد اسلم خان تھے جبکہ جی ایم جمالی، اے ایچ خانزادہ، مقصود یوسفی، طاہر حسن خان، سعید سربازی صدر پیپ محمد جمیل، سیکرٹری نعمان نظامی، رانا طاہر، عمران علی، اعجاز کورائی، جاوید اقبال، لئیق عالم نواب، جنید احمد راجپوت،عادل سلطان اور دیگر نے شرکت کی۔ شرکاء نے ایک دوسرے کو ورلڈ فوٹوگرافر ڈے کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے صحافت اور ذرائع ابلاغ کے میدان میں فوٹو جرنلسٹس کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔

اس موقع پر مہمان خصوصی جی ایم جمالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوٹوگرافی صحافت کا ایک انتہائی اہم اور مضبوط ستون ہے۔ خبر کی دنیا میں ایک تصویر بعض اوقات وہ بات بیان کر دیتی ہے جو طویل تحریر بھی مکمل طور پر بیان نہیں کر پاتی۔ فوٹو جرنلسٹس اپنے کیمرے کی آنکھ سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں، اہم واقعات، تاریخی لمحات اور عوامی مسائل کو محفوظ کرتے ہیں اور انہیں دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوٹو جرنلزم صرف تصاویر بنانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بڑی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ امانت ہے۔ ایک فوٹوگرافر کو ہر وقت حالات کا درست اندازہ رکھتے ہوئے حقیقت کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنا ہوتا ہے۔ قدرتی آفات، حادثات، سیاسی و سماجی سرگرمیوں، کھیلوں کے مقابلوں اور دیگر اہم واقعات کے دوران فوٹو جرنلسٹس اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔

صدر پیپ محمد جمیل اور سیکرٹری نعمان نظامی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تصاویر اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں انتہائی مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک اچھی اور بروقت تصویر خبر کی اہمیت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ قاری اور ناظر کو واقعے کی اصل صورتحال سے بھی روشناس کراتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے جدید دور میں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں فوٹوگرافی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

مقررین نے کہا کہ ایک تصویر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے اور کئی ایسی تصاویر دنیا بھر میں محفوظ ہیں جو مختلف ادوار کے اہم واقعات کی گواہی دیتی ہیں۔ فوٹو جرنلسٹس معاشرے کے خاموش گواہ ہوتے ہیں جو اپنے کیمرے کے ذریعے ایسے لمحات کو محفوظ کرتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔

کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری محمد اسلم خان،اے ایچ خانزادہ، مقصود یوسفی، طاہر حسن خان اور دیگر مقررین نے بھی فوٹو جرنلسٹس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس شعبے سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بہتر پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوٹوگرافرز اور فوٹو جرنلسٹس میڈیا انڈسٹری کا اہم حصہ ہیں اور ان کی محنت، لگن اور خدمات کو ہر سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

تقریب کے شرکاء نے کہا کہ فوٹوگرافی ایک ایسا فن ہے جس میں مشاہدے، مہارت، صبر اور بروقت فیصلہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک کامیاب فوٹوگرافر نہ صرف اپنے کیمرے کے استعمال پر عبور رکھتا ہے بلکہ اسے اپنے اردگرد کے حالات اور خبر کی نوعیت کا بھی گہرا ادراک ہونا چاہیے تاکہ وہ درست وقت پر درست منظر کو محفوظ کر سکے۔مقررین نے نوجوان فوٹوگرافروں پر بھی زور دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے پیشہ ورانہ اصولوں اور صحافتی اخلاقیات کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو سینئر فوٹو جرنلسٹس کے تجربات سے سیکھنا چاہیے اور اس شعبے کی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لانا چاہیے۔تقریب کے اختتام پر ورلڈ فوٹوگرافر ڈے کا کیک کاٹا گیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *