اسکرین شاٹ لینے
|

اسکرین شاٹ لینے کی عادت آپ کی یادداشت کمزور کرسکتی ہے، تحقیق میں انکشاف

واشنگٹن: اسمارٹ فونز سے اسکرین شاٹ لینے یا اہم لمحات کی تصاویر محفوظ کرنے کا رجحان انسانی یادداشت کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کسی چیز کو یاد رکھنے کے بجائے اس کی تصویر بنانے سے معلومات ذہن سے محو ہو جاتی ہیں۔

ماہرین نفسیات کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں اس عمل کو ’فوٹو-ٹیکنگ امپیئرمنٹ ایفیکٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جو افراد معلومات کو ذہن نشین کرنے کے بجائے صرف کیمرے کی مدد لیتے ہیں، وہ بعد میں ان واقعات کی تفصیلات کو یاد رکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔

بِنگہیمٹن یونیورسٹی کے محققین نے اس حوالے سے 7 مختلف تجربات کیے جس کے نتائج کافی حیران کن ثابت ہوئے۔ شرکا کو فن پارے دکھائے گئے اور ان سے تصاویر بنانے کو کہا گیا۔ بعد ازاں جب ان سے تفصیلات پوچھی گئیں تو نتائج نے واضح کیا کہ تصاویر بنانے والے افراد چیزوں کو بھول گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ صوفیہ فیبریزیو نے کہا کہ لوگ اکثر کسی واقعے کی تفصیلات تب بھول جاتے ہیں جب وہ اپنی بنائی ہوئی تصاویر کو دوبارہ نہیں دیکھتے۔ محض کیمرہ رول میں تصاویر جمع کرنا یادداشت کو بہتر بنانے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے دماغ کا فعال رہنا ضروری ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ منفی اثر صرف تب سامنے آیا جب شرکا نے خود فون کے ذریعے تصویر کشی کی۔ اس کے برعکس جسم پر نصب کیمروں سے خودکار طریقے سے بننے والی تصاویر نے یادداشت پر کوئی برا اثر نہیں ڈالا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ تصویر لینے کا عمل ہی دراصل یادداشت کو کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

موجودہ دور میں لوگ ہزاروں تصاویر اپنے فون میں محفوظ رکھتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ ڈیجیٹل ذخیرہ انسانی حافظے کا متبادل نہیں بن سکتا۔

معلومات کو یاد رکھنے کے لیے دماغی ارتکاز ضروری ہے، جبکہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ہمیں ذہنی طور پر سست بنا رہا ہے۔ اس لیے کسی بھی اہم معلومات کو یاد رکھنے کے لیے صرف فون پر انحصار کرنے کے بجائے اسے توجہ سے دیکھنا اور سمجھنا ہی بہترین عمل ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *