|

سندھ میں نوزائیدہ بچوں کے علاج کیلیے بستروں کی شدید قلت، مریض مشکلات کا شکار

کراچی سمیت سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں نوزائیدہ اور کم عمر بچوں کے علاج کے لیے بستروں کی کمی سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باوجود شعبہ اطفال کی ایمرجنسی میں گنجائش کئی برس سے نہیں بڑھائی گئی، جس کے باعث روزانہ سیکڑوں بچے بروقت علاج سے محروم رہتے ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں شعبہ اطفال کی ایمرجنسی کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 450 سے زائد بستروں کی سہولت موجود ہے، جبکہ سندھ میں ایک سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 19 لاکھ اور 5 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 95 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں بھی مریضوں کا دباؤ دستیاب سہولتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر سول اسپتال، این آئی سی ایچ، لیاری جنرل اسپتال اور نارتھ کراچی اسپتال میں روزانہ آنے والے بچوں کی تعداد دستیاب بستروں سے کئی گنا زیادہ بتائی جاتی ہے، جس کے باعث متعدد مریضوں کو دوسرے مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن میں کمی، مصنوعی دودھ کے بڑھتے استعمال اور دیگر طبی عوامل بچوں میں بیماریوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ دوسری جانب نجی اسپتالوں میں علاج کے اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس سے کم آمدنی والے خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔

ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں شعبہ اطفال کی گنجائش فوری طور پر بڑھائی جائے، جبکہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹالوجی کے مطابق صوبے میں بچوں کے علاج کے لیے متعدد نئے مراکز قائم کیے جا چکے ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر مزید سرمایہ کاری اور سہولتوں میں توسیع ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *