فلم سے خائف بھارت
(گزشتہ سے پیوستہ)
پورا پنجاب ابل پڑا ہے۔ سکھوں کے سینوں میں آگ بھڑک چکی ہے۔ پنجاب میں پولیس اہلکاروں کی سرعام درگت بنانے کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔ نوجوان تو نوجوان، بزرگ سکھ بھی پولیس کے ساتھ لڑتے نظر آ رہے ہیں۔ گرو پتونت سنگھ پنون نے بیرون ملک جس آزاد خالصتان تحریک کی بنیاد رکھی اس کی جھلک آج پورے پنجاب میں شدت سے دکھائی دے رہی ہے۔ پنجاب میں سکھوں کو روکنا اب ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ مودی نے سکھوں کو للکارا ہے تو سکھ بھی اس چیلنج کو قبول کر رہے ہیں۔ جگہ جگہ احتجاج اور مودی کے خلاف زبان استعمال ہو رہی ہے جو آنے والے وقت میں تحریک کے ازسرنو احیا کی طرف اشارہ ہے۔ سکھ طویل تاریخ رکھتے ہیں اور مزاحمت ان کے خون میں موجزن ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے مودی حکومت کے خلاف کسانوں کی تحریک جاری ہے جس میں سکھ پیش پیش ہیں۔ 26 جنوری 2021 کو سکھ کسانوں نے ٹریکٹر ریلی کے دوران دہلی کے لال قلعہ پر اپنا پرچم لہرایا۔ امرت پال سنگھ آسام کی ڈبرو گڑھ سینٹرل جیل میں قید ہیں اور بھنڈرانوالہ کی طرز پر خالصتان تحریک دوبارہ شروع کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ خالصتان تحریک کے لیے زمین ہموار ہے۔ قیادت چاہے جیل میں ہو یا بیرون ملک، ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ پنجاب میں حالات جو کروٹ لے رہے ہیں وہ تحریک کی بھرپور شروعات کی عکاسی کرتے ہیں۔ پھر یہ تحریک پنجاب تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر تک پوری شدت سے آگے بڑھے گی اور چکن نیک بھی اس کی لپیٹ میں آئے گی۔ یہ وقت کی پکار ہے اور اس پکار پر لبیک کہنا ہر مظلوم کے لیے ناگزیر ہے۔
جب کوئی ریاست سچے واقعات پر مبنی مختصر بجٹ کی فلم سے کانپ اٹھے تو سمجھ لیجیے کہ اس کے اندرونی زخم اب بھی تازہ ہیں۔ بھارت فلموں اور گیتوں سے ڈر کر اپنی کمزوری خود بے نقاب کر رہا ہے۔ اس کی فتوحات پردۂ سیمیں تک محدود ہیں جبکہ حقیقی میدان میں وہ بار بار رسوا ہوتا ہے۔ پاکستان اور چین اس کی جھوٹی فلموں سے نہیں ڈرتے کیونکہ جھوٹ کبھی پروپیگنڈے کی مضبوط بنیاد نہیں بن سکتا۔ لیکن ’ستلج‘ سچ ہے اور بھارت نہیں چاہتا کہ سکھ اس سفاکی کو جانیں جو ہندوتوا نے ان پر ڈھائی۔ یہ خوف خود اس کی شکست خوردگی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
فلم ’ستلج‘ نے سکھ برادری کے دلوں میں پرانے زخموں کو تازہ کر دیا ہے۔ دلجیت دوسانجھ کی اس فلم نے پنجاب کے اس تاریک دور کو دوبارہ سامنے لایا جب انسانی حقوق کی پامالی، لاپتہ افراد اور خفیہ آخری رسومات کے واقعات پیش آئے تھے۔ جسونت سنگھ کھالڑا کی جدوجہد پر مبنی یہ فلم ریلیز ہوتے ہی متنازع بن گئی اور جلد ہی بھارت میں اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹا دی گئی۔ اس پابندی نے سکھوں کے اندر موجود غم و غصے کو بھڑکا دیا اور آج پنجاب کے حالات اسی تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں۔ سکھوں کا کہنا ہے کہ جب ریاست سچے واقعات پر مبنی فلم سے کانپ اٹھے تو سمجھ لیجیے کہ اس کے اندرونی زخم اب بھی تازہ ہیں۔
پورا پنجاب ابل پڑا ہے۔ سکھوں کے سینوں میں آگ بھڑک چکی ہے۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں پولیس اہلکاروں کی سرعام درگت بنانے کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔ نوجوان تو نوجوان، بزرگ سکھ بھی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں نظر آ رہے ہیں۔ گردواروں کے باہر احتجاج کے مناظر عام ہو گئے ہیں اور مودی حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کی جا رہی ہے۔ گرو پتونت سنگھ پنون نے بیرون ملک جس آزاد خالصتان تحریک کی بنیاد رکھی، اس کی جھلک آج پورے پنجاب میں شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ بہت سے سکھوں کا کہنا ہے کہ انہیں روکنا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مودی نے سکھوں کو للکارا ہے تو سکھ بھی اس چیلنج کو قبول کر رہے ہیں۔ جگہ جگہ احتجاج اور مودی مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں جو آنے والے وقت میں تحریک کے ازسرنو احیا کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ سکھ برادری کی تاریخ مزاحمت سے بھری ہوئی ہے اور یہ مزاحمت ان کے خون میں موجزن ہے۔