بھارتی عالمی دہشت گردی ، امریکی خود مختاری پر حملہ
واشنگٹن کی گرمی جولائی کی دوپہر میں کیپیٹل ہل کی سنگ مرمر کی دیواروں کو چھوتی ہے، مگر 14 جولائی 2026 کو وہاں جو ہوا، وہ صرف ایک بریفنگ نہیں تھی۔ یہ بھارت کی جانب سے دنیا بھر میں اپنی اقلیتوں کے خلاف چلائی جانے والی دہشت گردی کی ایک کھلی دستاویز تھی۔ ہندوز فار ہیومن رائٹس، ایکویٹاس فورم امریکہ، دلت سالیڈیرٹی فورم، نیویارک اسٹیٹ کونسل آف چرچز اور سکھ کوئلیشن کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ اس اجلاس میں بیرونی ممالک میں بھارت کے جبر، استحصال اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے امریکی قومی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ ریپبلکن نمائندہ جم میک گورن، ایلیسن میک مینس، کیٹی لاروک، اسٹیفن شنیک، ڈینیل اسٹینٹن، پیٹر فریڈرک، ہرجوت سنگھ، لیلین، رشیدہ ٹائلر اور ریا چکرابرتی جیسے چہرے اس میز پر موجود تھے۔ ان کی آوازوں میں ایک واضح الزام گونجتا تھا: یہ آزادیِ اظہار کا معاملہ نہیں، بلکہ بھارت کی عالمی دہشت گردی ہے جو اپنی اقلیتوں کو دنیا کے کسی بھی کونے میں نشانہ بناتی ہے۔
بریفنگ کی کہانی ایک دور دراز کے قتل کی سازش سے شروع ہوتی ہے۔ مئی 2023 میں بھارتی سرکاری اہلکار وکاش یادو — جن کے “را” کے ساتھ روابط بتائے جاتے ہیں — نے امریکہ اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والے سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو نیویارک میں ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ انہوں نے نکھل گپتا نامی شخص کو بھرتی کیا۔ گپتا نے ایک قاتل کو، جو درحقیقت امریکی ایجنسی کا خفیہ اہلکار تھا، ایک لاکھ ڈالر کی پیشکش کی اور 9 جون 2023 کو مین ہیٹن میں پندرہ ہزار ڈالر بطور پیشگی رقم ادا کر دی۔ گپتا کو 30 جون 2023 کو پراگ میں گرفتار کیا گیا، بعد ازاں امریکہ کے حوالے کیا گیا اور 13 فروری 2026 کو اس نے قتل برائے معاوضہ کی سازش اور منی لانڈرنگ کی سازش کے الزامات کا اعترافِ جرم کر لیا۔ وکاش یادو تاحال مفرور ہیں۔ یہ اعترافِ جرم صرف ایک عدالتی دستاویز نہیں تھا؛ یہ بھارت کی عالمی دہشت گردی کا زندہ ثبوت تھا کہ وہ اپنی اقلیتوں کو حتیٰ کہ امریکی سرزمین پر بھی ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس سازش سے صرف چند روز پہلے، 18 جون 2023 کو، سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا کے برٹش کولمبیا کے علاقے سرے میں ایک گردوارے کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ جولائی 2026 میں آپریشن ہارڈ بال کے تحت امریکی حکام نے بھارتی گینگسٹر لارنس بشنوئی اور اس کے ساتھی ستیندرجیت سنگھ (گولڈی برار) پر اس قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کیا۔ نتیجتاً امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں 37 افراد پر فردِ جرم عائد ہوئی اور 24 گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ بریفنگ میں مقررین نے واضح کیا کہ یہ واقعات محض چند سرکش عناصر کی کارروائیاں نہیں ہیں۔ یہ بھارت کی جانب سے سکھ، ہندو، دلت اور مسیحی اقلیتوں کے خلاف منظم عالمی دہشت گردی کی مہم ہے، جس میں انٹیلی جنس روابط، نقد ادائیگیاں اور گینگسٹر نیٹ ورکس استعمال کیے جاتے ہیں۔
امریکہ اور کینیڈا میں سکھ برادری پر بھارتی دہشت گردی کے الزامات اس کہانی کا ایک اہم باب ہیں۔ سکھ تارکینِ وطن، جو اپنی شناخت اور حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، خود کو نگرانی، دھمکیوں اور قتل کی سازشوں کے نشانے پر پاتے ہیں۔ گرپتونت سنگھ پنوں جیسے رہنماؤں کے خلاف سازشیں اور ہردیپ سنگھ نجر کا قتل سکھ برادری میں خوف کی لہر پیدا کر گئے ہیں۔ بہت سے سکھ کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی اقلیتوں کو دنیا بھر میں نشانہ بنانے کے لیے ریاستی مشینری اور مجرمانہ نیٹ ورکس کا استعمال کرتا ہے۔ کینیڈا میں نجر کے قتل کے بعد سکھ برادری نے احتجاج کیا، گردواروں کے باہر سکیورٹی بڑھا دی گئی، اور بہت سے خاندانوں نے اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرنا شروع کر دیا۔ امریکہ میں بھی سکھ تنظیموں نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی اس عالمی دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔
بریفنگ میں یہ بات بار بار دہرائی گئی کہ امریکی کانگریس اب جوابدہی، پابندیوں اور بہتر ضمانتوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اعترافِ جرم، نقد ادائیگیوں اور انٹیلی جنس افسر کے ساتھ روابط کے شواہد کے مقابلے میں بھارت کی تردیدیں کمزور دکھائی دیتی ہیں۔ جب امریکی سرزمین پر غیر ملکی قتل کی سازشیں منظرِ عام پر آتی ہیں تو خاموش سفارتی کوششیں کافی نہیں ہوتیں۔ ٹھوس نتائج اور جوابدہی درکار ہوتی ہے۔ جم میک گورن جیسے نمائندوں نے اسلحہ کی فروخت پر نظرِ ثانی اور ٹرانس نیشنل ریپریشن پالیسی ایکٹ جیسے قوانین کی حمایت کی، تاکہ کوئی بھی غیر ملکی حکومت امریکی شہریوں یا رہائشیوں کو نشانہ نہ بنا سکے۔
یہ کالم صرف چند واقعات کی فہرست نہیں ہے۔ یہ بھارت کی عالمی دہشت گردی کی ایک کہانی ہے جو اپنی اقلیتوں کے خلاف سرحدوں کے پار چلائی جا رہی ہے۔ سکھ برادری، جو صدیوں سے اپنی شناخت اور حقوق کے لیے لڑتی آئی ہے، آج بھی امریکہ اور کینیڈا کی سرزمین پر اس دہشت گردی کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کی جدوجہد صرف ایک قوم یا مذہب تک محدود نہیں؛ یہ ہر اس اقلیت کی جدوجہد ہے جو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن رہی ہو۔ کیپیٹل ہل کی اس بریفنگ نے ایک واضح پیغام دیا: بھارت کی یہ عالمی دہشت گردی کسی بھی ملک کی خودمختاری اور عوام کی حفاظت کے لیے خطرہ ہے۔ اور جب تک جوابدہی نہیں ہوگی، یہ سایہ بار بار واپس آتا رہے گا۔