مکہ دفاعی پیکٹ شاعر مشرق کا خواب
(گزشتہ سے پیوستہ)
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان پہلے ہی ایسے جغرافیائی خطوں میں موجود ہیں جہاں سے عالمی تجارت کے چار اہم maritime chokepoints آبنائے ہرمز، باب المندب، نہر سویز اور ترک آبنائیںبراہِ راست یا بالواسطہ طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ان چار چوک پوائنٹس کی عالمی تجارت اور توانائی کے لیے اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اور ممکنہ طور پر مزید ممالک کی شمولیت سے آبنائے ملاکا سے آبنائے جبرالٹر تک یہ نیٹ ورک علاقائی معاہدے سے آگے بڑھ کر عالمی اسٹریٹجک اثر و رسوخ کا حامل بن سکتا ہے، یہ امکانات کا کھیل دنیا کی سیاست بدل سکتا ہے، شاعر مشرق کے خواب کی یہ تعبیر بھارت کیلئے ایک ڈرانا خواب ہو گی کیونکہ آبنائے ملاکا سے آبنائے جبرالٹر تک مشرق و مغرب کے ممالک کیلئے پرامن سمندری تجارت کی سہولت کاری اور مضبوط ضمانت میں کلیدی کردار ادا کرنے والا یہ نیٹ ورک نئی دہلی کی عالمی و اسٹریٹجک اہمیت مزید کم کر دے گا، پاکستان کے قومی شاعر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ نے کہا تھا کہ:
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شاعر مشرق کہلانے والے اس عظیم فلاسفر نے ایک اور موقع پر فرمایا تھا کہ :
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
یہ کیسا حسین اتفاق ہے کہ اس خواب کی عملی تعبیر کیلئے بنیادی اینٹ رکھتے ہوئے جو پیکٹ ہوا اس کا نام بھی مکہ دفاعی پیکٹ یعنی ’’حرم کی پاسبانی‘‘رکھا گیا ہے۔ مصر، آذر بائیجان اور ملائیشیاء تین ایسے ممالک ہیں کہ جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی حوالے سے کئی دوطرفہ معاہدوں کا پہلے سے حصہ ہیں، مصر کا نام تو اس اسلامک کواڈ کی تشکیل کے حوالے سے عالمی میڈیا میں زیر بحث بھی رہا ہے، اس معاملے پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تینوں بنیادی ممالک پاکستان ترکی اور سعودی عرب اس مشترکہ سلسلے کو آگے بڑھانے کیلئے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں کیونکہ عالمی طاقتوں کی اس حوالے سے معمولی سی غلط فہمی اس معاملے کے راستے میں مشکلات کھڑی کر سکتی ہے،دنیا کی طاقت کا فیصلہ صرف میزائلوں، جنگی طیاروں اور ایٹمی ہتھیاروں سے نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی اصل طاقت ان تنگ سمندری گزرگاہوں میں چھپی ہوتی ہے جہاں سے دنیا کی توانائی، تجارت اور سپلائی لائنز گزرتی ہیں۔ اسی تناظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان 7 اگست 2026 ء کو مکہ مکرمہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ محض ایک عسکری سمجھوتہ نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے علاقائی توازن کا ایک اہم اشارہ ہے۔ معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔اس معاہدے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے دنیا کے نقشے پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ تینوں ممالک براہِ راست چار بڑے عالمی maritime chokepoints کے اگر چہ مالک تو نہیں، مگر ان کی جغرافیائی پوزیشن ان راستوں کے گرد ایک غیر معمولی تزویراتی قوس (strategic arc) تشکیل دیتی ہے جن میں آبنائے ہرمز، باب المندب، نہر سویز اور 2 ترک آبنائیں شامل ہیں۔مکہ دفاعی پیکٹ اپنی موجوہ صورت میں بھی ایک تزویراتی قوس ہے اور آبنائے جبرالٹر سے آبنائے ملاکا تک 2030 ء تک کی ممکنہ توسیع کے تناظر میں ایک ’’گریٹر تزویراتی قوس‘‘بن کر ابھر سکتا ہے جس میں شمالی افریقی ممالک مصر الجزائر، مراکش، وسط ایشیا کے ممالک آذر بائیجان، ترکمانستان، مشرق وسطیٰ کے ممالک اومان، قطر ، عراق اور مشرقی ایشیاء کے ممالک بنگلہ دیش، ملائیشیا اور انڈونیشیا کی شمولیت پوری دنیا کے لئے اس معاہدے کو عالمی سمندری تجارت کے مضبوط گارڈین کے طور پر سکون کا سانس لینے کا باعث بننے والا معاہدہ بنا سکتی ہے ماسوائے بھارت اور اسرائیل کے۔