پاکستان کا مقدمہ
|

پاکستان کا مقدمہ

پاکستان بنتے میں نے دیکھا نہیں مگر اس کے قیام کے پس منظر اور جدوجہد کی انمٹ کہانیوں کو ضرور پڑھا ہے ۔ مسلمانانِ برصغیر تہذیبی اور دینی اعتبار سے الگ قوم تھی جس کا ہندووں اور سکھوں کے ساتھ باہم رہنا ممکن نہ تھا ۔ یہی تفریق آگے چل کر دو قومی نظریہ میں ڈھلی اور تحریک آزادی کی اساس بنی۔ اس تحریک میںمسلمان نہ صرف فرنگیوں سے آزادی، بلکہ اپنی شناخت ، سیاسی اور مذہبی حقوق کے حصول کے لئے ہندووں سے بھی نبرد آزما تھے۔ قیام پاکستان کے مقدمے پر نگاہ ڈالیں تو نظر آتا ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی و مذہبی رہنما قیام پاکستان کے حوالے سے ایک نظریے پر متفق نہ تھے۔ مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ بلند پایہ عالم دین ،بے مثال خطیب اورمجلس احرار اسلام کے ممتاز رہنما تھے۔ جنگ آزادی کی جدوجہد میں کئی بار ان کو پابند سلاسل کیا گیا، ان کا قول تھا کہ’’ میری آدھی زندگی جیل اور آدھی ریل میں گزر گئی‘‘۔ وہ متحدہ ہندوستان کے حامی اور قیام پاکستان کے حوالے سے مسلم لیگ اور قائد اعظمؒ کی سوچ کے مخالف تھے۔مولانا ابوالکلام آزادؒ ایک جید عالمِ دین، مفسرِ قرآن اور ہندوستانی قومی تحریک کے ممتاز رہنما تھے۔ تقسیمِ ہند کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان زیادہ مضبوط سیاسی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اپنی خودنوشت India Wins Freedom میں انہوں نے تقسیم کے ممکنہ نتائج پر تشویش ظاہر کی ۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے ممتاز شیخ الحدیث ’’مولانا حسین احمد مدنیؒ‘‘ نے قیام پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے ’’متحدہ قومیت‘‘ کا نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق ایک ملک میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگ مشترکہ وطن کی بنیاد پر ایک سیاسی قوم بن سکتے ہیں۔ اسی طرح مولانا احمد سعید دہلویؒ ، جمعیت علمائے ہند کے دیگر علماء اور مولانا مودودیؒ جیسے زیرک مفکر بھی متحدہ ہندوستان کے حامی تھے ۔ ان سب کے نزدیک تقسیم سے مسلمانانِ برصغیر کی بڑی تعداد مستقل طور پر ہندوستان میں اقلیت بن جائے گی، جس سے ان کے سیاسی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہو جائے گا۔
دوسری طرف قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے ساتھ ساتھ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ جیسے اکابر قیام پاکستان کے پرزور حامی تھے ۔ ان شخصیات کا مؤقف تھا کہ مسلمانوں کے مذہبی، ثقافتی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک علیحدہ ریاست ضروری ہے۔ دونوں نظریات کی بحث نے اتنا طول پکڑا کہ علامہ اقبالؒ نے ارمغان ِ حجاز میں’’ حسین احمد‘‘ نامی نظم لکھ کر مولانا حسین احمد مدنیؒ کے نظریہ قومیت پر تنقید کرتے ہوئے یہ مشہور اشعار کہے۔
عجم ہنوز نداند رموزِ دیں ورنہ
زدیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی است
سرود بر سرِ منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر ز مقامِ محمدِؐ عربی است
(غیر عرب (عجم) ابھی تک دین کے اسرار و رموز سے پوری طرح واقف نہیں، ورنہ دیوبند کے حسین احمد ایسی عجیب بات نہ کرتے۔وہ منبر پر یہ نغمہ الاپتے ہیں کہ ملت کی بنیاد وطن ہے، وہ حضرت محمد ﷺ کے مقام و پیغام سے کتنے بے خبر ہیں)
مولانا مدنی ؒنے اپنے مئوقف کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں لکھا کہ وہ ’’ملت‘‘ اور ’’قوم‘‘ کو الگ اصطلاحات مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک ’’ملت‘‘ مذہبی برادری ہے، جبکہ “قوم” سیاسی اور وطنی مفہوم میں بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ ان کی دلیل تھی کہ مختلف انبیاء نے اپنی اپنی ’’قوم‘‘ سے خطاب کیا ہے، حالانکہ ان کی قوموں میں سب لوگ مومن نہیں تھے۔
پاکستان کو معرض وجود میں آئے اب79 برس ہو چلے۔ قیام پاکستان کا مقدمہ اور دونوں نظریات کو آج کے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے توہم بلاشبہ کہ سکتے ہیں کہ پاکستان کے قیام سے مسلمانوں کو ایک شناخت ملی، ان کی مذہبی اقدار، ثقافت اور زبان کو تحفظ ملا اور وہ دوسری قوموں کی تہذیبی آلائشوں سے پاک ہوئے ۔ آج پاکستان میں رہنے والے مسلمان بھارتی مسلمانوں سے تعداد میںکہیں کم ہونے کے باوجود ’’پاکستان‘‘ کے ذریعے اپنی پہچان ، قدر، طاقت اور آواز رکھتے ہیں۔ پاکستان آج اسلامی دنیا کا ایسا باوقار اور طاقتور رہنماہے، جس نے دنیا بھر کے امن اور سلامتی کے لئے ہمیشہ توانا کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ اس کی آواز مزید معتبر اور دور تک سنی جارہی ہے۔گذشتہ دنوں سعودیہ ، ترکیے اور پاکستان کے درمیان سہ ملکی ’ مکہ معاہدہ ‘‘ پاکستان کے مسلمانوں کے لئے فخر اور پہچان ہے۔یہ سب حقائق نظریہ قیام پاکستان پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔
تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں۔تقسیم نے لاکھوں لوگوں کو سرحد پارکرنے کی بجائے دنیا ہی پار کروا دی۔ کروڑوں افراد کے گھر، مویشی، زمینیں اور کاروبار قربان ہوگئے، کئی خاندان تقسیم ہو گئے اور فسادات میں کھو جانے والے تمام عمر اپنے پیاروں کو ڈھونڈ نہ سکے۔ تقسیم کا یہ دو طرفہ درد آج ان خاندانوں کی اگلی نسلیں بھی محسوس کرتی ہیں۔ آج بھارت رہ جانے والے مسلمانوں کی تہذیب، ثقافت، زبان ، تہوار ، سیاسی، انسانی ومذہبی حقوق بری طرح متاثر ہیں۔ پاکستان سے زیادہ تعداد میں ہونے کے باوجود مسلمانوں کی دنیا میں نہ کوئی پہچان ہے نہ آواز، الٹاان کی اپنے وطن سے وفاداری پر بھی شک کیا جاتا ہے ۔ سیکولرزم کے کھوکھلے لبادے میں بتدریج پروان چڑھتا ہندوتا کا پرتشدد نظریہ آج مولانا حسین احمد مدنی، عبدالکلام آزاد اور دوسرے اکابرین کی اس رائے کو تقویت پہنچاتاہے کہ قیام پاکستان کے بعدبھارتی مسلمانوں کی طاقت کمزور پڑ جائے گی اور ان کا اپنی شناخت اور حقوق کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔قیام پاکستان کے حق اور مخالفت میں دونوں اطراف کے دلائل اخلاص نیت اور مسلمانوں کی سیاسی و مذہبی فلاح کے لئے تھے ۔ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ اختلاف کو احترام، اصل ماخذ اور تاریخی سیاق و سباق کے ساتھ سمجھا جائے، نہ کہ کسی کی نیت یا دینی خدمات پر سوال اٹھایا جائے۔مولانا مودودیؒ اور عطااللہ بخاریؒ قیام پاکستان کے مخالف نظریہ رکھتے ہوئے بھی پاکستان بننے کے بعد مرتے دم تک اپنی فکری، علمی اور سیاسی جدوجہد سے پاکستان کی خوشحالی اور استحکام کے لئے پیش پیش رہے۔
جشن آزادی پربعض لوگ تنقید کا کوڑا لے کر پاکستان کو ناکام ریاست قرار دینے پر تلے ہوتے ہیں۔ یہ موقع سقم شماریوں اور عیب تراشیوں کا نہیں بلکہ تجدید عہدِوفاکا ہے۔کٹھن حالات میں تو محبتیں مزید پختہ ہوا کرتی ہیں۔ یاد رکھا جائے کہ پاکستان کے لئے تقسیم کے وقت ہی جانیں نہیں نچھاور کی گئیں بلکہ اس ملک کو قائم ودائم رکھنے کے لئے افواج ، پولیس ، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں ، عوام ، حتیٰ کے سکول کے بچوں نے بھی اپنا لہو دیا ۔ جانیں قربان کرنے کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
پاکستان بہت سے میدانوں میں ترقی کرتا ہوا آگے بھی بڑھا ہے۔ لیکن پاکستان کا یہ مقدمہ تا حال جاری ہے ۔ قیام پاکستان کے مخالفین ان تحفظات کا اظہار بھی کرتے تھے کہ جن ارفع مقاصد کے لئے پاکستان کا پودا لگایا جا رہا ہے ، وہ ثمر آور نہ ہو سکا تو اس جدوجہد کا کیا مقصد رہ جائے گا۔ ہم سب نے مل کر پاکستان کو جمہوریت، حکمرانی، عدل وانصاف ، اسلامی تہذیب اور جدید فلاحی ریاست کا ایک عظیم نمونہ بنا کر پاکستان کا یہ مقدمہ بھی جیتنا ہے۔ پاکستان پائیندہ باد۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *