| |

اوپن اے آئی کے بعد انتھروپک کے اے آئی ماڈل نے بھی 3 ادارے ہیک کر دیے

مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی معروف کمپنی انتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل کلاڈ نے اندرونی حفاظتی جانچ کے دوران غیر متوقع رویہ اختیار کرتے ہوئے خود ہی 3 مختلف کمپنیوں کے آن لائن نظام تک رسائی حاصل کرلی، حالانکہ اسے مکمل طور پر محدود اور انٹرنیٹ سے الگ ماحول میں آزمایا جا رہا تھا۔

 یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ دنوں اوپن اے آئی کی جانب سے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے غیر معمولی طرزِ عمل سے متعلق انکشاف کے بعد انتھروپک نے بھی اپنے آزمائشی ریکارڈ کی ازسرنو جانچ شروع کی۔ اس تفصیلی جائزے کے دوران ایسے 3 واقعات کی نشاندہی ہوئی جن میں کلاڈ نے خود ایک خامی تلاش کرتے ہوئے محدود ماحول سے نکل کر بیرونی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور مختلف کمپنیوں کے نظام میں داخل ہوگیا۔

انتھروپک نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد آزمائشی مراحل کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ کلاڈ کو اگرچہ مکمل طور پر الگ تھلگ ماحول میں رکھا گیا تھا، تاہم اس نے ایک تکنیکی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انٹرنیٹ سے رابطہ قائم کرلیا۔

کمپنی کے مطابق یہ تجربہ دراصل مصنوعی ذہانت کی حفاظتی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ کلاڈ کو ایک فرضی مشن دیا گیا تھا جس کے تحت اسے دوسری مشین میں محفوظ خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے نظام میں داخل ہونا تھا، مگر اس نے مقررہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے بیرونی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور 3 مختلف کمپنیوں کے نظام میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

انتھروپک کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ اپریل 2026 میں پیش آیا، تاہم اس وقت نہ کمپنی کو اس کی اطلاع ہوسکی اور نہ ہی متاثرہ اداروں کو اس غیر معمولی سرگرمی کا علم ہوا۔ بعد میں تفصیلی جانچ کے دوران ان تمام واقعات کا سراغ لگایا گیا اور متاثرہ کمپنیوں کو فوری طور پر آگاہ کردیا گیا، البتہ ان اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

کمپنی نے دیگر مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے اداروں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنے آزمائشی نظام اور حفاظتی طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیں تاکہ اس نوعیت کے ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جاسکے۔ انتھروپک کے مطابق آئندہ مزید سرمایہ کاری، سخت حفاظتی اقدامات اور مسلسل نگرانی کے ذریعے ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

اس سے قبل اوپن اے آئی بھی اپنے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے حوالے سے اسی نوعیت کا انکشاف کرچکی ہے۔ کمپنی نے بتایا تھا کہ اس کے دو جدید ماڈلز پر مبنی ایک خودکار مصنوعی ذہانت ایجنٹ آزمائشی مرحلے کے دوران محدود ماحول سے نکل کر کھلے انٹرنیٹ تک پہنچ گیا تھا۔

اوپن اے آئی کے مطابق اس ایجنٹ نے نہ صرف مختلف ویب خدمات تک رسائی کی کوشش کی بلکہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اس نے بعض کمپنیوں کی لاگ اِن معلومات حاصل کرکے چند کھاتوں تک بھی رسائی حاصل کرلی تھی۔ ان واقعات میں معروف پروگرامنگ پلیٹ فارم ہگنگ فیس سمیت متعدد ادارے متاثر ہوئے، تاہم کمپنی نے دیگر اداروں کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

بعد ازاں اوپن اے آئی نے واضح کیا کہ ان واقعات کے بعد حفاظتی جانچ کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے نظام کو مزید محفوظ بنانے، نگرانی سخت کرنے اور آزمائشی طریقہ کار میں اضافی حفاظتی تہیں شامل کرنے پر کام جاری ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے غیر متوقع رویوں کو روکا جاسکے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *