بلاول اور مریم ایک دوسرے کی حقیقت بے نقاب کر رہے ہیں: حافظ نعیم
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز ایک دوسرے پر ایسے الزامات عائد کر رہے ہیں جن سے خود ان کی سیاست کی حقیقت بے نقاب ہو رہی ہے، دونوں رہنما فارم 47 کی پیداوار ہیں اور اب ایک دوسرے کے بیانات سے یہی بات ثابت بھی کر رہے ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو خود اعتراف کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں صرف 17 نشستیں جیت سکی، ایسے میں وہ یہ بھی قوم کو بتائیں کہ کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی 7 نشستیں کس بنیاد پر ملیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلاول بھٹو اپنے فارم 45 عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ انتخابی نتائج کی حقیقت سب پر واضح ہو جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کسی ایک پولنگ مرکز سے بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکی، اس کے باوجود اسے 15 نشستیں دے دی گئیں، کراچی میں پیپلز پارٹی نے جاگیردارانہ طرزِ سیاست کو فروغ دیا ہے اور شہری عوام کے مینڈیٹ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وفاقی ادارہ محصولات مقررہ محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، مگر اس کا بوجھ مسلسل عام شہریوں پر ڈالا جاتا ہے، مختلف محصولات کی مد میں عوام سے اب تک 8.5 ہزار ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ حکومت نئے نئے محصولات عائد کرکے مہنگائی کا مزید بوجھ عوام پر منتقل کر رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والوں اور موٹر سائیکل سواروں سے بھی محصولات وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے کسانوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے صرف آمدورفت ہی نہیں بلکہ زراعت، صنعت، تجارت اور روزمرہ زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ معاشی بحران میں عوام سے مزید قربانی لینے کے بجائے اعلیٰ سرکاری افسران اور بیوروکریسی سمیت تمام مراعات یافتہ طبقات اپنی سہولتوں میں کمی کریں، جب اپنی تنخواہوں اور مراعات بڑھانے کی بات آتی ہے تو تمام جماعتوں کے ارکان اسمبلی ایک صف میں کھڑے نظر آتے ہیں، مگر عوام کو ریلیف دینے کے معاملے میں کسی کے پاس کوئی مؤثر منصوبہ موجود نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے 7 اگست کو پرامن سیاسی مزاحمت کا اہم مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس روز کراچی سے خیبر تک ملک بھر کی شاہراہوں پر عوام احتجاج کے لیے نکلیں گے۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ پرامن اور جمہوری سیاسی جدوجہد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے گریز کرے، کیونکہ ہر شہری کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے مطالبات کے اظہار کا حق حاصل ہے۔