چین کا حوثیوں سے رابطہ، تیل بردار جہازوں کے تحفظ کی ضمانت طلب
بیجنگ: چین نے یمن کے حوثی گروپ سے براہِ راست رابطہ کرکے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب سے گزرنے والے چینی تیل بردار جہازوں کے تحفظ کی ضمانت طلب کی ہے تاکہ انہیں ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاملے سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ بیجنگ نے حوثیوں سے مذاکرات کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی عرب کی بندرگاہوں سے چین جانے والے تیل بردار جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے منسلک بحری نقل و حمل کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور بعض تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد بحیرہ احمر میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ حوثیوں نے 20 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی بندرگاہوں سے وابستہ بحری سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد عالمی شپنگ کمپنیوں میں تشویش پھیل گئی۔
ذرائع کے مطابق چین ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے باب المندب کے راستے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے حوثیوں سے براہِ راست رابطہ کیا۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ بیجنگ نے حوثیوں سے چینی جہازوں کے تحفظ کے حوالے سے یقین دہانی طلب کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی کوشش ہے کہ سعودی عرب کی بحیرہ احمر میں واقع اہم بندرگاہ ینبع سے تیل کی برآمدات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں کیونکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حوثیوں نے اب تک چین جانے والے تیل بردار جہازوں کے لیے الگ الگ منظوری دی ہے جبکہ ایران کو بھی ان اقدامات سے آگاہ رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی جہاز سعودی بندرگاہوں سے سامان لوڈ یا اَن لوڈ کرے گا تو اسے حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے باعث بعض آئل ٹینکروں نے باب المندب میں داخل ہونے سے پہلے اپنا راستہ بھی تبدیل کر لیا۔
رپورٹ کے مطابق نیو چیمپئن اور نیو پرائم نامی دو بڑے آئل ٹینکر خلیج عدن سے واپس کھلے سمندر کی جانب روانہ ہوگئے، جبکہ باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد پیر کے روز بڑھ کر 28 ہوگئی، یہ تعداد جولائی کے وسط میں ریکارڈ کیے گئے 46 جہازوں سے کم ہے۔
عالمی جہاز رانی کے شعبے کے مطابق بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے تیل کی ترسیل اور تجارتی راستوں کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔