گیس کے چولہے دمہ کے مریضوں کے لیے نقصان دہ قرار، نئی تحقیق میں اہم انکشافات
واشنگٹن: امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گھروں میں استعمال ہونے والے گیس کے چولہے دمہ کے مریضوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں جبکہ انہیں بجلی کے چولہوں سے تبدیل کرنے سے نہ صرف گھریلو فضائی آلودگی کم ہوتی ہے بلکہ دمہ کی علامات میں بھی نمایاں بہتری آتی ہے۔
کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کی تحقیق میں پچاسی بالغ افراد اور بچوں کو شامل کیا گیا، جو دمہ کی شدید علامات کا شکار تھے۔ محققین نے پہلے ان افراد کی صحت کا چار ہفتوں تک جائزہ لیا، جس کے بعد ان کے گھروں میں موجود گیس کے چولہوں کو بغیر کسی اضافی لاگت کے بجلی کے چولہوں سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد شرکا کی صحت کا مزید دو سے تین ماہ تک مشاہدہ کیا گیا۔
تحقیق کے دوران گھروں کے اندر فضائی معیار کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں خاص طور پر نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو جانچا گیا، گیس کے چولہے قدرتی گیس جلانے کے دوران نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی نقصان دہ گیسیں خارج کرتے ہیں، جو گھریلو فضائی آلودگی میں اضافہ کرتی ہیں اور طویل عرصے تک ان کے اثرات پھیپھڑوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے کے ساتھ دمہ اور دیگر سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ گیس کے چولہوں کی جگہ بجلی کے چولہے استعمال کرنے سے گھروں کے اندر نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں تقریباً ستر فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دمہ کے مریضوں میں علامات کی شدت بھی نمایاں طور پر کم ہو گئی۔
محققین کے مطابق شرکا کی صحت میں آنے والی بہتری اتنی نمایاں تھی کہ اس کا اثر بعض ادویات سے حاصل ہونے والی بہتری کے برابر یا بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ دیکھا گیا، گیس کے چولہے تبدیل کرنے کے بعد بیماری کے باعث دفاتر اور تعلیمی اداروں سے غیر حاضری میں اسی فیصد تک کمی آئی، جبکہ ڈاکٹروں سے رجوع کرنے کی ضرورت میں بھی ستر فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
محققین نے واضح کیا کہ اس تحقیق کی کچھ حدود بھی ہیں، کیونکہ اس میں شرکا کی تعداد نسبتاً کم تھی، صحت کا جائزہ صرف چند ماہ تک لیا گیا اور نتائج کا دیگر گروپس سے تقابل نہیں کیا گیا، ان نتائج کی مزید تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر اور طویل المدتی تحقیقات کی ضرورت ہے۔