جدید ٹیکنالوجی نے
| |

جدید ٹیکنالوجی نے صدیوں پرانے دیسی کھیلوں کی رونقیں اور اجتماعی خوشیاں چھین لیں

جدید سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے صدیوں پرانے روایتی کھیلوں خصوصاً پنجاب میں کھیلے جانے والے کھیلوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ کھیل نہ صرف جسمانی طاقت اور پھرتی کا بہترین ذریعہ تھے بلکہ معاشرتی سطح پر اجتماعی خوشی اور میل ملاپ کا ایک اہم اور مؤثر ترین مرکز بھی تھے۔

کسی دور میں پنجاب کی ہر گلی اور محلے میں گلی ڈنڈا، پٹھو گرم اور لنگڑا شیر جیسے کھیلوں کی دھوم رہتی تھی۔ لڑکیاں کیکلی، گیٹے اور شٹاپو کھیل کر اپنا دل بہلایا کرتی تھیں۔ ان کھیلوں میں کسی قسم کے مہنگے سازوسامان کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اور یہ مفت ورزش کا ذریعہ تھے۔

کبڈی اور ملاکھڑا جیسے روایتی مقابلوں کے ذریعے نوجوان اپنی طاقت کا لوہا منواتے تھے، جبکہ کھدو کھوندی ایک قسم کی دیسی ہاکی تھی جو کھلے میدانوں میں کھیلی جاتی تھی۔

ان کھیلوں سے نہ صرف جسمانی نشوونما ہوتی تھی بلکہ بچوں میں مقابلے کی صحت مند فضا پیدا ہوتی تھی۔

کیکلی اور کوکلا چھپاکی جیسے مقبول کھیلوں کے اپنے خاص گیت تھے جو بچوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتے تھے۔

اسی طرح ہرا سمندر اور لکن میٹی جیسے کھیل بچوں کی ذہنی بیداری اور اجتماعی نظم و ضبط سکھانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے جو اب صرف کہانیوں کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں گلیوں کی رونقیں ماند پڑ چکی ہیں اور بچے جسمانی کھیلوں کے بجائے موبائل اسکرینوں تک محدود ہو گئے ہیں۔ روایتی کھیلوں کا خاتمہ ایک ایسی ثقافتی محرومی ہے جس نے بچوں کو چار دیواری تک قید کر دیا ہے اور ان کی جسمانی فعالیت تقریباً ختم ہو گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان روایتی کھیلوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو صحت مند جسمانی سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔

اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ہماری یہ قدیم ثقافتی میراث مکمل طور پر تاریخ کے صفحات میں کہیں کھو جائے گی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *