کراچی: میر رضا کے قتل پر انصاف: احتجاج کرنیوالے 100 افراد کیخلاف مقدمہ درج
کراچی: مقتول تاجر میر رضا کے لواحقین اور حامیوں کی جانب سے انصاف کے حصول کے لیے شارع فیصل پر کیے جانے والے احتجاجی مظاہرے کے خلاف فیروز آباد تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی سرکاری مدعیت میں عمل میں لائی گئی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق مقدمہ سب انسپکٹر محمد نظام کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق 27 اگست کی رات شارع فیصل نرسری اسٹاپ پر 100 کے قریب افراد نے سڑک بلاک کر رکھی تھی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز اور ڈنڈے موجود تھے جو نعرے بازی کر رہے تھے۔
مذکورہ پولیس افسر نے کہا کہ مظاہرین نے صدر سے ایئر پورٹ جانے والے ٹریفک کے بہاؤ کو مکمل طور پر روک دیا تھا۔ پولیس کی جانب سے بارہا سمجھانے کے باوجود مشتعل مظاہرین نے سڑک خالی کرنے سے انکار کر دیا جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پولیس رپورٹ میں عدنان رضا، دانش رحمن، دانش رضا، فیضان، حمزہ، رضا حسن، علی زبیر اور طلحہ سمیت 20 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ 70 سے 80 نامعلوم افراد بھی ایف آئی آر میں شامل ہیں جو مظاہرے کے دوران مسلسل نعرے بازی میں مصروف تھے۔
مقدمے میں دفعات 147، 149، 186، 341 اور 504 شامل کی گئی ہیں۔ پولیس نے کہا کہ ملزمان پر نیت مشترک ہو کر راستہ بند کرنے، عوام الناس کو ہراساں کرنے اور کارِ سرکار میں مداخلت کرنے کا الزام ہے۔ واقعہ سے متعلق مزید تحقیقات کا عمل اب انویسٹی گیشن ٹیم کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ میر رضا قتل کیس کراچی میں ایک اہم معاملہ بن چکا ہے جس کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ مقتول کے لواحقین انصاف کے حصول کے لیے مختلف فورمز پر آواز اٹھا رہے ہیں جبکہ عدالتی سطح پر بھی یہ معاملہ زیرِ سماعت ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کا قانونی حق تسلیم کیا جاتا ہے تاہم شاہراہوں کو بلاک کرنا اور عوام کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنا قانوناً جرم ہے۔ اس مقدمے کے اندراج کے بعد اب انویسٹی گیشن پولیس قانون کے مطابق اپنی کارروائی آگے بڑھائے گی اور ملوث افراد کو طلب کرے گی۔